021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین سرکاری کاغذات میں بائع کے نام نہ ہونا عیب ہے
..خرید و فروخت کے احکامخریدی ہوئی چیز میں خرابی )عیب( نکلنے کے متعلق احکام

سوال

زید نے بکر سے اپنی مملوکہ بلڈنگ کےعوض ڈیڑھ ایکڑ زمین خریدی اور فریقین نے قبضہ بھی کرلیا۔بعد میں بکر فوت ہوگیا۔وفات کے بعد پتا چلا کہ بیع کے وقت وہ ڈیڑھ ایکڑ زمین حکومتی کاغذات میں بکر کےنام نہیں تھی،البتہ وہ شرعاً اس کا مالک تھا۔زمین جس کے نام ہے وہ یہ زمین زید کےنام کرانے پر تیار نہیں ہے،گویا اب وہ ڈیڑھ ایکڑ زمین زید کےنام نہیں ہوپارہی۔زید کو یہ بات معلوم نہیں تھی۔ نیز زیدنے کبھی اس عیب پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا۔اوریہ زمین ابھی بھی اسی حالت میں ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ ایسی چیز بیچنا جو بیچنے والے کے نام نہ ہو اور خریدار کو یہ نہ بتایاگیاہو کہ یہ زمین میرے نام نہیں ہےاورخرید کنندہ یہی سمجھتا رہے کہ حکومتی کاغذات میں یہ بیچنے والے ہی کے نام ہوگی۔نیز خرید کنندہ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس زمین کا کوئی مختار نامہ ہے یا نہیں،اگرہے تو وہ کس کے نام ہے؟کیا شریعت اسے عیب قرار دیتی ہے اور کیا اس کی بنا پر خریدار کو یکطرفہ طور پر سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا؟

o

جی ہاں! زمین کا حکومتی کاغذات میں بائع(بیچنےوالے) کے نام نہ ہونا شرعاً عیب ہے،کیونکہ عرف میں اسے عیب سمجھا جاتا ہے اوراس کی وجہ سے زمین کی قیمت میں کافی کمی آجاتی ہے۔ اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً خریدار کواس عیب کا علم نہیں تھا،نہ زمین خریدتے وقت اورنہ قبضہ کے وقت ،نیز بائع نے تمام عیوب سے یا خاص اس عیب سے بری الذمہ ہوکر زمین فروخت نہیں کی تھی، نہ ہی خریدار نے اس عیب پر مطلع ہونے کےبعد اس پر رضامندی کا اظہارکیا، نہ کوئی ایسا کام کیا جس سے عیب پر رضامندی ظاہر ہوتی ہوتومذکورہ عیب کی وجہ سے خريدار كویکطرفہ طور پر معاملہ ختم کرنےکا اختیار حاصل ہے۔

حوالہ جات

الهداية (3/ 36): قال: وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب؛ لأن التضرر بنقصان المالية وذلك بانتقاص القيمة، والمرجع في معرفته عرف أهله. الدر المختار (5/ 3): باب خيار العيب: هو لغةً ما يخلو عنه أصل الفطرة السليمة، وشرعاً ما أفاده بقوله ( من وجد بمشتريه ما ينقص الثمن ) ولو يسيراً،جوهرة ( عند التجار ) المراد بهم أرباب المعرفة بكل تجارة وصنعة، قاله المصنف ( أخذه بكل الثمن أو رده )........... وفيها (ای القنیة) لو ظهر أن الدار مشؤمة ينبغي أن يتمكن من الرد؛ لأن الناس لا يرغبون فيها. حاشية ابن عابدين (5/ 15): قوله ( ينبغي أن يتمكن من الرد الخ ) أقره في البحر والنهر. وفي الولوالجية: والهتوع عيب وهو مأخوذ من الهتعة وهي دائرة بيضاء تكون في صدر الحيوان إلى جانب نحره يتشاءم به فيوجب نقصاناً في الثمن بسبب تشاؤم الناس اهـ. فقہ البیوع (2/832): قد ذكر الفقهاء شروطاً متعددةً لثبوت خيار العيب، ويظهر بعد تتبع كلامهم أن هذه الشروط ترجع إلى ثلاثة أمور: 1)ظهور عيب معتبر فى إثبات الخيار 2)جهل المشترى بالعيب وقت العقد . 3)عدم رضا المشترى بالعيب.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔