021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ
..نماز کا بیاناذان و اقامت کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ نومولود بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ کیا ہے؟قبلہ کی طرف رخ کرنا یا ہاتھ کانوں تک اٹھانا ضروری ہے یا نہیں؟

o

بچے کو ہاتھوں پہ اٹھا کر اپنا رخ قبلہ کی طرف کرلیں،پھر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہیں۔حی علی الصلاح،حی علی الفلاحکہتے وقت دائیں بائیں اپنا چہرہ بھی پھیر یں۔کانوں تک ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (ويلتفت فيه) وكذا فيها مطلقا، وقيل إن المحل متسعا (يمينا ويسارا) فقط؛ لئلا يستدبر القبلة (بصلاة وفلاح) ولو وحده أو لمولود؛ لأنه سنة الأذان مطلقا…(ويجعل) ندبا (أصبعيه في) صماخ (أذنيه)، فأذانه بدونه حسن، وبه أحسن. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( ولو وحده) ،وفي البحر عن السراج أنه من سنن الأذان، فلا يخل المنفرد بشيء منها، حتى قالوا في الذي يؤذن للمولود ينبغي أن يحول. (قوله مطلقا) للمنفرد وغيره والمولود وغيره ط. قوله: (ويجعل أصبعيه) ؛لقوله صلى الله عليه وسلم لبلال رضي الله عنه : «اجعل أصبعيك في أذنيك فإنه أرفع لصوتك» وإن جعل يديه على أذنيه فحسن؛ لأن أبا محذورة رضي الله عنه ضم أصابعه الأربعة ووضعها على أذنيه ،وكذا إحدى يديه على ما روي عن الإمام. إمداد وقهستاني عن التحفة. قال الرافعی رحمہ اللہ:قال السندی:”فیرفع المولود عند الولادۃ علی یدیہ مستقبل القبلۃ،ویؤذن فی أذنہ الیمنی ویقیم فی الیسری،ویلتفت فیھما بالصلاۃ لجھۃ الیمین وبالفلاح لجھۃ الیسار،وفائدۃ الأذان أنہ یدفع أم الصبیان عنہ. (الدر المختار مع رد المحتار :1/ 387)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔