021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسبوق پر واجب ترک کرنے کی وجہ سے سجدہ سہو ہےیا نہیں؟
62235نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

نمازکے دوران امام صاحب پرسجدہ سہوواجب ہوا،اسی نمازمیں مسبوق پر اپنی بقیہ رکعات اداکرتے ہوئے سجدہ سہوواجب ہوگیا تو مسبوق کے لئےامام صاحب کاسجدہ سہوکافی ہے یادوسراسجدہ سہو اپنی نمازکابھی اداکرے گا؟

o

مسبوق اپنی بقیہ رکعا ت کی ادائیگی میں منفرد (اکیلے نمازپڑھنے والے(کے حکم میں ہوتاہےجس طرح منفردپرواجب چھوٹنے کی صورت میں سجدہ سہوواجب ہوتاہے تواسی طرح مسبوق پربھی اپنی بقیہ رکعات کی ادائیگی میں واجب چھوٹنے کی وجہ سے سجدہ واجب ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 4 / ص 352): "( قوله والمسبوق من سبقه الإمام بها ) أي بكل الركعات ، بأن اقتدى به بعد ركوع الأخيرة ، وقوله أو ببعضها : أي بعض الركعات ( قوله حتى يثني إلخ ) تفريع على قوله منفرد فيما يقضيه بعد فراغ إمامه ، فيأتي بالثناء والتعوذ لأنه للقراءة ويقرأ لأنه يقضي أول صلاته في حق القراءة كما يأتي ؛ حتى لو ترك القراءة فسدت .... ويلزمه السجود إذا سها فيما يقضيه" رد المحتار (ج 5 / ص 361): "( والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا ) سواء كان السهو قبل الاقتداء أو بعده ( ثم يقضي ما فاته ) ولو سها فيه سجد ثانيا... ( قوله ولو سها فيه ) أي فيما يقضيه بعد فراغ الإمام يسجد ثانيا لأنه منفرد فيه والمنفرد يسجد لسهوه"
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔