021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لیبارٹری والے کا سونا ریفائن کرنے کے بدلے خالص سونا کم مقدار میں دینا
62257خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

جب کوئی دکاندار لیبارٹری والے کو سونا  ريفائن کرنے کے لیے دیتا ہے تو لیبارٹری والا  ا س کے بدلے میں اپنے پاس موجود سونے میں سے کم مقدار میں خالص سونا دکاندار کو دے دیتا ہے جس میں وہ اپنی مزدوری کاٹ لیتا ہے اور دکاندار کی طرف سے دیا گیا  ناخالص سونا زیادہ مقدار میں اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔اس میں دونوں کا فائدہ ہوتا ہے، دکاندار کا کام جلدی ہو جاتا  ہے اور لیبارٹری والا  دن بھر آنے والے تمام دکانداروں سے سونا لے کر شام کو ایک ہی مرتبہ پورے سونے  کو ریفائن کر لیتا ہے۔کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ لیبارٹری والا وہی سونا ریفائن کر کے واپس کر دیتا ہے اور اسی میں سے اپنی مزدوری کاٹ لیتا ہے، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

o

سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں، پہلی اس وجہ سے کہ اس صورت میں ناخالص سونے کی خالص سونے کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدوفروخت لازم آتی ہے،  دوسری اس وجہ سے کہ دکاندار کی طرف سے دیے گئے ریفائن شدہ سونے میں سے مزدوری لینا لازم آتا ہے اور  شرعی طور پر اپنے عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی چیز سے مزدوری لینا جائز نہیں۔ اس کی جائز صورتیں چار ہیں:

اول: دکاندار ناخالص سونا لیبارٹری والے کو کرنسی کے بدلے فروخت کر دے اور پھر نئے سرے سے طے شدہ قیمت کے بدلے خالص سونا خرید لے۔

دوم:  لیبارٹری والے کی مزدوری سونے کی بجائے کرنسی کی صورت میں ادا کی جائے۔

سوم: دکاندار کی طرف سے دیے گئے سونے میں سے ہی  مزدوری دینا طے نہ کیا جائے، بلکہ دکاندار کو اختیار ہونا چاہیے، خواہ اسی سونے میں سے مزدوری دیدے یا کسی اور سونے سے ادا کرے۔پھر بعد میں دکاندار چاہے تو اسی سونے میں سے بھی  مزدوری دے سکتا ہے۔

چہارم: لیبارٹری والا ریفائن کیے جانے والے سونے میں سےپہلے  اپنی مزدوری کے برابر سونا علیحدہ کر لے اور پھر بقیہ سونا ریفائن کر کے دکاندار کے حوالے کر دے تو یہ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

٫٫٫

    محمد نعمان خالد

    دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

  7/ جمادی الاخری 1439ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔