021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونے میں ملاوٹ کرنا
62258خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

سونے میں ملاوٹ کی کہاں تک گنجائش ہے؟ کیونکہ بغیر ملاوٹ زیور تیار نہیں  کیا جا سکتا، نیز بیس کیرٹ والے سونے کو  بائیس کیرٹ کا کہہ کر فروخت کرنا کیسا ہے؟

o

سونے میں عالمی یا  قومی معیار یعنی مارکیٹ کے عرف  کے مطابق ہی ملاوٹ کرنا جائز ہے، (عالمی معیار کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً:22 حصہ خالص سونا ہو تو اس میں دو حصے کسی دوسری دھات مثلاً:  تانبہ وغیرہ کی ملاوٹ کی جائے، اس کو 22کیرٹ سونا کہتےہیں، اسی طرح  اگر بیس کیرٹ کا سونا ہو تو اس میں 18 حصے خالص سونا اور دو حصے ملاوٹ ہوتی ہے اور قومی معیار کا مطلب یہ ہے کہ ایک تولہ خالص سونے میں 9 رتی ملاوٹ کی جائے، بحوالہ زیورات کی خریدوفروخت:ص:102) اس سے زیادہ  ملاوٹ کرنا ناجائز اور دھوکہ  دہی ہے،اسی طرح ناخالص سونے کو خالص سونا کہہ کر بیچنا بھی ناجائز  اور گناہ ہے،   لہذا بیس کیرٹ کا سونا  بائیس کیرٹ کا کہہ کر فروخت کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں  گاہک کو بتانا ضروری ہے کہ یہ اتنے کیرٹ کا سونا ہے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 323، رقم الحدیث: 3452):
باب في النهي عن الغش: حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء، عن أبيه عن أبي هريرة: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مر برجل يبيع طعاما، فسأله "كيف تبيع؟ " فأخبره، فأوحي إليه: أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه، فإذا هو مبلول، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ليس منا من غش"
حاشية ابن عابدين (6/ 427):
 قوله ( قال ) أي صاحب المجتبى وعبارته قال عليه الصلاة والسلام كل كذب مكتوب لا محالة إلا ثلاثة الرجل مع مرأته أو ولده والرجل يصلح بين ثنين والحرب فإن الحرب خدعة قال الطحاوي وغيره هو محمول على المعاريض لأن عين الكذب حرام۔
قلت وهو الحق قال تعالى { قتل الخراصون } (الذاريات:10) وقال عليه الصلاة والسلام الكذب مع الفجور وهما في النار۔

              محمد نعمان خالد

                                                            دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

                       7/ جمادی الاخری 1439ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔