021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق مغلظہ کی عدت میں میاں بیوی میں پردہ ضروری ہے
..طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں،اب وہ عدت میں ہے،کیا مذکورہ مطلقہ عورت اپنے اسی شوہر سے پردہ کرےگی،جبکہ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں؟

o

مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ وہ عدت کے دوران شوہر سے پردہ کریں،اگر چہ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہوں۔

حوالہ جات

قال الإمام فخر الدین الزیلعی رحمہ اللہ تعالی:" وإذا طلقها بائنا، وسكنت في منزل الزوج، يجعل بينها وبينه سترة ،حتى لا تقع الخلوة بالأجنبية." (تبیین الحقائق:3/37، المطبعة الكبرى الأميرية ، القاهرة) وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" قال في الجوهرة: هذا إذا كان الطلاق رجعيا، فلو بائنا، فلا بد من سترة، إلا أن يكون فاسقا ،فإنها تخرج." (رد المحتار:3/536،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔