021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیکس سے بچنے کےلئے حیلے سے متعلق مختلف سولات کاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

1۔ کیاہم کسی کمپنی کو ٹیکس سے بچانے کیلئے جعلی بل دے سکتے ہیں اور اس پر کچھ سروس چارجز لے سکتے ہیں ،یہ حلال ہوگا یا حرام ؟ 2۔ ٹیکس چوری کرنا اپنی آمدنی کم بتانا قانونا جرم ہے ، کیا وہ آمدنی جو ہم نے کم بتائی ہے ہمارے لئے حلال ہے یاحرام ؟ 3۔ چوری شدہ ٹیکس جو آمدنی کم بتانے کے ذریعہ بچا کیا وہ ہمارے لئے حلال ہے یاحرام ؟

o

اصل جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ ٹیکس کی حیثیت کیا ہے ؟ حکومت کا رعایا پر ٹیکس مقرر کرنا مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے جائز ہے ۔ 1۔سرکاری خزانے کی رقوم اور حکومت کے ذرائع آمدنی اس کے اخراجات کے لئے ناکافی ہوں ۔ 2۔ٹیکس کی مقدار بقدر ضرورت ہو ،اتنا زیادہ ٹیکس مقرر نہ کیا جائے کہ جولوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہو ۔ 3۔ ٹیکس سےوصول ہونے والی رقم ملک وملت کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کی جائے ۔ اگر حکومت ان شرائط کے ساتھ ٹیکس لیتی ہے تو ملک کے باشندوں پر اس ٹیکس کی ادائیگی شرعا واجب ہے ،جھوٹ اور غلط بیانی وغیرہ کے ذریعہ یہ ٹیکس معاف کروانا جائز نہیں ۔ الموسوعة الفقهية الكويتية (42/ 6) ويقول الشاطبي: إنا إذا قررنا إماما مطاعا مفتقرا إلى تكثير الجند لسد حاجة الثغور وحماية الملك المتسع الأقطار، وخلا بيت المال، وارتفعت حاجات الجند إلى ما لا يكفيهم فللإمام إذا كان عدلا أن يوظف على الأغنياء ما يراه كافيا لهم في المال، إلى أن يظهر مال بيت المال، ثم إلى الإمام النظر في توظيف ذلك على الغلات والثمار وغير ذلك۔ اس وضاحت کے بعد سوالات کے جوابات یہ ہیں 1۔جعلی بل دینا جائز نہیں اور اس پر کوئی چارجز لینا بھی حلال نہ ہوگا ۔ 2،3۔اگر حکومت جائز حدود میں ٹیکس وصول کررہی ہو تو ٹیکس چوری کا عمل جائز نہیں ہے ،اوراگر ٹیکس وصولی کاطریقہ ظالمانہ ہو کہ آدمی کی طاقت وقوت سے زیادہ ہو توایسی صورت میں زائد ٹیکس سے بچنے کے لئے کوئی حیلہ اختیار کرنا درست ہے ۔ دونوں صورتوں میں جومال آپ کی ملک میں موجود ہے اس کو حرام نہیں کہاجائے گا ۔ البتہ ٹیکس واجب ہونے کی صورت میں جبتک ادانہ کردے ، ادا نہ کرنے کا گناہ ذمہ میں رہےگا ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 331) [فرع] في مجموع النوازل: جماعة طمع الوالي أن يأخذ منهم شيئا بغير حق فاختفى بعضهم وظفر الوالي ببعضهم فقال المختفون لهم لا تطلعوه علينا وما أصابكم فهو علينا بالحصص، فلو أخذ منهم شيئا فلهم الرجوع قال هذا مستقيم على قول من جوز ضمان الجباية وعلى قول عامة المشايخ لا يصح فتح. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 422) والأفضل مشاركة أهل محلته في إعطاء النائبة لكن في زماننا أكثرها ظلم فمن تمكن من دفعه عن نفسه فحسن، وإن أعطى فليعط من عجز. ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه وجوزه الشافعي وهو الأوسع.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔