021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروباری ضرورت کی وجہ سے عورت کااجنبی مردوں سے بات کرنا
..جائز و ناجائزامور کا بیانپردے کے احکام

سوال

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلوں کے بارے میں: میں نے اپنے گھر سے ایک نوکری شروع کی ہے۔ آج کل معاشی طور پر ہم غیر مستحکم ہیں اور اسی ضرورت کی وجہ سے میں نے یہ نوکری شروع کی تھی، تاکہ میں اپنے خاوند کی بھی تھوڑی معاشی مدد کر سکوں۔ میرے کام میں مجھے فون کے ذریعے آرڈر لے کرکمپنی کے ڈیٹا میں داخل کرنے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ جو لوگ فون کرتے ہیں وہ مرد بھی ہوتے ہیں اور لڑکے بھی۔ کیا میرے لیے محض کام کے خاطر ان مردوں سے بات کرنا جائز ہے؟ میں یہ کام گھر سے کرتی ہوں اور اس میں نکلنے کی ضرورت بھی نہیں پیش آتی۔

o

عورت کے لیے بلا ضرورت کسی اجنبی مرد سے بات کرنا سخت گناہ ہے۔ اگر نوکری کرنا ناگزیر ہے تو ضرورت کی وجہ سے آپ کے لیے ان شرائط کے ساتھ بات کرنے کی گنجائش ہے: 1- بقدر ضرورت بات ہو۔ 2- لہجے میں نرمی اور لچک نہ ہو۔ 3- پردے کا اہتمام رہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" قوله: (وصوتها): معطوف على المستثنى، يعني أنه ليس بعورة، ح. قوله: (على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر: وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوال: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء، فلا يحسن أن يسمعها الرجل ا ه. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا؛ لان صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الاذان،بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل: إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها؛ ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق ا ه.وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الامداد. ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا: صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح، فإنا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم. ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة ا ه.قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة. (رد المحتار: 1/406)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔