03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلامی ماحول میں عصری تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حکم
62472جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

   اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن وحدیث اور احکام شرعیہ کی تعلیم کو تمام دوسرے علوم پر فضیلت حاصل ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی میں جن علوم کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ سب علم نافع میں شامل ہیں، اور ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دینی تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ان علوم میں آگے بڑھیں؛ تاکہ وہ ایک باعزت قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندگی گزار سکیں، اور انسانیت کی خدمت کرسکیں، اس کے لئے اس تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہے، جس کو آج کل عصری تعلیم یا انگریزی تعلیم کہاجاتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ نظام تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے، اب تو مغربی ملکوں میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی تعلیم کو خدا بیزاری کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنادیاگیا ہے، مسلمان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کہ انہیں اپنی نسلوں کو دین پر ثابت قدم رکھنا بھی ضروری ہے اور زیور تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے۔اس پس منظرمیں کچھ اہم سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں:

۱- ایسے اسکول قائم کرنے کا کیا حکم ہے، جن کے اندر اسلامی ماحول میں مطلوبہ معیار تعلیم کے مطابق عصری علوم پڑھائے جائیں،یہ واجب یا مستحب کے درجہ میں مطلوب ہیں یا صرف مباح ہیں،یا مکروہ وناپسندیدہ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام ایک جامع مذہب ہے، اس میں اپنے دین پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف دنیوی علوم وفنون کو حاصل کرنے کی اجازت، بلکہ جائز مقاصد کے پیشِ نظر اس كومستحسن قرار دیا گیا ہے، لہذا اسلام کی ترقی اور شان وشوکت کے ارادے سے دنیوی علوم حاصل کرنا باعثِ ثواب ہے، اس کا قرآن وحدیث سے بھی ثبوت ملتا ہے، چنانچہ قرآنِ مقدس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة [الأنفال: 60] یعنی تم دشمن کے مقابلے کے لیے جتنی تم سے ہو سکے  قوت تیار کرکے رکھو، اس آیت کی تفسیر میں علامہ آلوسی اور دیگر مفسرین کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اس میں جدید اسلحہ اور بندوق وغیرہ کے ذریعے گولی وغیرہ چلانا بھی شامل ہے۔اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی تیر اندازی اور عربی کے علاوہ دیگر زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔.

جہاں تک عصری علوم کے  حصول کے لیے اسلامی طرز پر  ادارے قائم کرنے کے واجب یا مستحب ہونے کا تعلق ہے تو وہ حالات کے تقاضا اور ضرورت پر موقوف ہے، اگر مسلمانوں کے پاس دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت اور سامان موجود ہو تو ایسے ادارے بنانا مستحب ہو گا، لیکن اگر اتنی طاقت نہ ہو، (جیسا کہ عصرِ حاضر کی صورتِ حال ہے)  تو  چونکہ آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے اس صورت میں مطلوبہ طاقت کے حصول تک ان اداروں کا بقدرِ ضرورت قیام امتِ مسلمہ پر لازم اور واجب ہو گا، جس سے آج کے حالات کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرکے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے، کیونکہ دشمن کے مقابلے کی تیاری کرنا پوری امت کی ذمہ داری ہے، اسی طرح اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے دیگر زبانوں اورکمپیوٹر کا فن سیکھنا بھی امت کے ذمہ لازم ہے۔

البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لیےعصری رواج کے مطابق  اسکول اور کالجز ہی بنائے جائیں، بلکہ ایسے مدارس بھی قائم کیے جا سکتے ہیں جن میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کے علوم کی تعلیم دی جائے۔

 

حوالہ جات

تفسير الألوسي (5/ 220):

وأنت تعلم أن الرمي بالنبال اليوم لا يصيب هدف القصد من العدو لأنهم استعملوا الرمي بالبندق والمدافع ولا يكاد ينفع معهما نبل وإذا لم يقابلوا بالمثل عم الداء العضال واشتد الوبال والنكال وملك البسيطة أهل الكفر والضلال فالذي أراه والعلم عند الله تعالى تعين تلك المقابلة على أئمة المسلمين وحماة الدين، ولعل فضل ذلك الرمي يثبت لهذا الرمي لقيامه مقامه في الذب عن بيضة الإسلام ولا أرى ما فيه من النار للضرورة الداعية إليه إلا سببا للفوز بالجنة إن شاء الله تعالى، ولا يبعد دخول مثل هذا الرمي في عموم قوله سبحانه: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ۔

سنن الدارمي (ص: 575، رقم الحدیث: 2591):

أخبرنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب قال: حدثني يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير: مرثد بن عبد الله، عن عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية: {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} ألا إن القوة الرمي۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

19/06/1439

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب