021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
”میرا تیرا میاں بیوی والا تعلق ختم ہوچکا،میری طرف سے آزاد ہو“کہنے کا حکم
..طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ آئے روز میرا اور ساس کا جھگڑا رہتا تھا۔میں بہت زیادہ تنگ آچکی تھی۔میں نے شوہر سے کہا میں اپنے میکے جانا چاہتی ہوں،تمہاری امی روزانہ مجھ سے جھگڑتی رہتی ہے اور تم بھی ان کی وجہ سے مجھ پر مار پیٹ کرتے ہو۔اگر تم بھی جانا چاہتے ہو تو آجاؤ،وہاں اکٹھے رہیں گے۔ میرا شوہر بھی جانے کے لیے آمادہ ہوگیا،لیکن جب وہ اپنی امی سے واپس آیا تو اس کے تیور بدلے ہوئے تھے اور مجھے کہنے لگاکہ تم جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ،میرا تیرا میاں کا تعلق ختم ہوچکا۔پھر انگلیوں پر گن کر تین دفعہ کہا:”تم میری طرف سے آزاد ہو،ماں کے پاس رہتی ہو یا باپ کے پاس،میرا تیرا کوئی تعلق نہیں“۔ میں نے یہ الفاظ اس کی امی کو بتائے تو اس نے یقین نہیں کیا اور مجھے قرآن پر قسم کھانے کو کہا تو میں نے باوضوء قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی،لیکن ان کو یقین نہیں آیا۔میں نے اپنے والد کو اطلاع دی،وہ مجھے لے جانے کے لیے آئے تو میرے شوہر نے مجھے نہیں چھوڑا اور والد سے کہا کہ میں نے طلاق دی ہے،اب بدمعاشی کے ساتھ رکھوں گا۔اب وہ مجھے کہتا ہے کہ کسی کو نہیں بتاؤ ہم حلالہ کروا کر دوبارہ نکاح کر لیں گے،لیکن میں نے اس بات سے انکار کردیا۔اِس کے بعد 24 دن تک مجھے زبردستی اپنے گھر رکھا۔مذکورہ صورتِ حال میں میرا اس شخص کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے۔برائے مہربانی مکمل و مدلل جواب دے کر میری پریشانی ختم فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ نوٹ:میرے شوہر نے آپ سے فتوی لیا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی،اِس میں اس نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔وہ فتوی بھی ساتھ لف ہے۔

o

پہلے فتوے میں لکھا جانے والا جواب صورتِ مسئولہ کے مطابق تحریر کیا گیا تھا،مفتی کو غیب کا علم نہیں ہوتا،جو اس کو بتایا جائے وہ اس کے مطابق جواب دیتا ہے۔اب آپ نے جو صورت تحریر کی ہے اِس میں آپ کے شوہر نے دو جملے بولے ہیں،پہلا جملہ”تم جانا چاہتی ہو توچلی جاؤ،میرا تیرا میاں بیوی کا تعلق ختم ہوچکا “درحقیقت ایک جملہ ہے اور کنایہ ہے،اگرطلاق کی نیت ہو تو ایک طلاقِ بائن اِس سے واقع ہو جائے گی۔دوسرا جملہ”میری طرف سے آزاد ہو“تین مرتبہ بولا ہے،اگر اِس کے سیاق و سباق میں طلاق کا قرینہ پایا جائے تو یہ طلاق کے باب میں صریح شمار ہوتا ہے اور اس سے طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہاں بھی یہی صورتِ حال ہے اور چونکہ تین مرتبہ بولا ہے،لہذاپچھلے جملےسے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو، تین طلاقیں بہرحال پوری ہوجاتی ہیں۔شوہر کے باقی کلام جیسے: ”میں نے طلاق دی ہے،اب بدمعاشی کے ساتھ رکھوں گا… کسی کو نہیں بتاؤ ہم حلالہ کروا کر دوبارہ نکاح کر لیں گے“سے ان کی طلاق کی نیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر سوال میں ذکر کردہ صورت درست ہے تو تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ، اب اِس شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية :ولو قال لها:لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى…ولو قال: ما أنت لي بامرأة أو لست لك بزوج ,ونوى الطلاق يقع عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى ,وعندهما لا يقع. ولو قال لها: اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق. (الفتاوى الهندية :1/ 375) قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ :قوله:( سرحتك فارقتك)، وجعلهما الشافعي من الصريح ؛لورودهما في القرآن للطلاق كثيرا .قلنا المعتبر تعارفهما في العرف العام في الطلاق ؛لاستعمالهما شرعا مرادا هو بهما ,كذا في فتح القدير، وفي الكافي. ولنا الصريح ما لا يستعمل في غير النساء ،وهم يقولون: سرحت إبلي وفارقت غريمي ،ومشايخ خوارزم من المتقدمين ومن المتأخرين كانوا يفتون بأن لفظ التسريح بمنزلة الصريح يقع به طلاق رجعي بدون النية .كذا في المجتنى. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق :3/ 325) قال الشامی رحمہ اللہ: فإن” سرحتك“ كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت… زاد في البحر: الطلاق لك أو عليك، أنت طال بحذف الآخر، لست لي بامرأة وما أنا لك بزوج، أعرتك طلاقك، ويصير الأمر بيدها على ما في المحيط اهـ ففي الكل يقع بالنية رجعي كما في الفتح قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح…(لا) يلحق البائن (البائن).(الدر المختار مع رد المحتار :3/ 299 ،303،306،308)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔