021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری اور عیسائی اسکولز میں بچوں کو تعلیم دلوانے کا حکم
62474جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

   اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن وحدیث اور احکام شرعیہ کی تعلیم کو تمام دوسرے علوم پر فضیلت حاصل ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی میں جن علوم کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ سب علم نافع میں شامل ہیں، اور ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دینی تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ان علوم میں آگے بڑھیں؛ تاکہ وہ ایک باعزت قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندگی گزار سکیں، اور انسانیت کی خدمت کرسکیں، اس کے لئے اس تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہے، جس کو آج کل عصری تعلیم یا انگریزی تعلیم کہاجاتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ نظام تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے، اب تو مغربی ملکوں میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی تعلیم کو خدا بیزاری کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنادیاگیا ہے، مسلمان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کہ انہیں اپنی نسلوں کو دین پر ثابت قدم رکھنا بھی ضروری ہے اور زیور تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے۔اس پس منظرمیں اہم سوال آپ کی خدمت میں پیش ہے:

   ایسے بعض اسکولوں میں غیر شرعی افکار مثلاً ڈارون ازم، فرائڈ کا نظریہ جنس،غیر اخلاقی مضامین مثلاً میوزک، ڈانس، جنسی تعلیم اور تاریخ کے نام پر غیر معقول دیومالائی کہانیاں پڑھائی جاتی ہیں ان میں سے بعض مضامین کا پڑھانا اسکولوں کے لئے لازم ہے

نصاب تعلیم کے مذکورہ مفاسد سرکاری تعلیمی اداروں میں زیادہ ہوتے ہیں، جہاں ان بچوں کے لئے تعلیم کا حصول آسان ہوتا ہے ، جو بھاری فیس ادا نہیں کرسکتے، اسی طرح بعض مقامات پر ایسے اسکول نہیں ہیں، جو مسلمان انتظامیہ کے تحت چلتے ہوں، وہ عیسائی مشنری یا سنگھ پریوار (ہندو قوم پرست تنظیموں کے خاندان) کے تحت چلنے والے ادارے ہوتے ہیں، قریب میں مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والا اسکول نہیں ہوتا، جس میں مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں، ایسی صورت میں کیا مسلمانوں کے لئے ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلاناجائز ہوگا، اور اگر مجبوری میں ایسے اداروں میں تعلیم کے لئے داخل کرنا پڑے تو بچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

o

پاکستان میں موجود سرکاری تعلیمی اداروں میں  بچوں کو تعلیم دلوانے کے اگرچہ کچھ مفاسد ہیں، مثلا: مخلوط تعلیم اور غیر شرعی  مضامین  کا داخلِ نصاب ہونا وغیرہ۔ لیکن یہ مفاسد اس قدر نہیں کہ جن سے طلباء کا ایمان  ضائع ہونے کا خطرہ ہو، لہذا اگر گھر میں دینداری کا ماحول  ہو اور والدین بچے کی تعلیم وتربیت پر گہری نظر رکھیں تو طالب علم اپنے ایمان اور اعمال کی حفاظت کرتے ہوئے تعلیم حاصل کر سکتا ہے، جیسا کہ سرکاری  اداروں میں موجود تبلیغی جماعت  یاکسی مستند اور صحیح العقیدہ عالمِ دین سے منسلک طلباء کا مشاہدہ  اور تجربہ ہے۔

البتہ اگر واقعتاً قریب میں مسلمانوں کا کوئی سرکاری یا پرائیویٹ تعلیمی ادارہ موجود نہ ہو اور دسری طرف عیسائی مشنری  اور ہندو انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکول میں بچے کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں عصری تعلیم کے حصول کے لیے بچے کو ایسے ادارے میں داخل کروانا جائز نہیں، بلکہ ایسی صورتِ حال میں علاقہ کے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ اسلامی طرز کا کوئی تعلیمی  ادارہ قائم کرنے کی کوشش کریں، تاکہ مسلمان بچے اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے عصری تعلیم حاصل کر سکیں، اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو پھر والدین کو چاہیے کہ گھر میں بچے کی تعلیم وتربیت کا بندوبست کریں۔ بچے کو عیسائی اسکول میں بھیجنے سے اگر بچے کا ایمان ضائع ہو گیا یا وہ گمراہی کا شکار ہو گیا تو اس کی ذمہ داری والدین پر ہو گی۔

حوالہ جات

فيض القدير (6/ 135):
(من ربي صغيرا حتى يقول لا إله إلا الله لم يحاسبه الله) أي في الموقف والصغير شامل للولد وولده وغيره لليتيم ولغيره وذلك لأن كل مولود يولد على فطرة الإسلام وأبواه يهودانه وينصرانه ويمجسانه كما في الحديث فمن رباه تربية موافقة للفطرة الأصلية حتى يعقل ويشهد شهادة الحق جوزي على ذلك بإدخال الجنة بغير حساب مطلقا ويحتمل أن المراد بغير حساب مفسر بكونه يسيرا سليم العاقبة فلخلوه عن الضرر والمشقة عبر عنه بعدم الحساب مبالغة حثا على تأديب الأطفال لا سيما الأيتام بآداب الإسلام ليتمرنوا على ذلك وينشأوا عليه۔

محمدنعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

18/جمادی الاخری 1439ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔