03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخلوط نظامِ تعلیم کا حکم
62475جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عصری درسگاہوں کے اندر شروع سے آخر تک یا کم سے کم ابتدائی درجات میں مخلوط تعلیم کا نظام ہوتا ہے، لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کلاسوں میں پڑھتے ہیں، کھیل کے میدان میں اور چائے خانوںمیں آپس میں ملتے جلتے ہیں، مخلوط نظام تعلیم کا ایک سبب تو مادیت، دین بیزاری اور اخلاقی انحطاط ہے،وہیں دوسرا سبب یہ ہے کہ جداگانہ نظام تعلیم میں زیادہ اساتذہ، عملہ،کلاس روم وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے  اور بعض دفعہ انتظامیہ اس کا نظم کرنے سے قاصر ہوتی ہے، تو کیا ان دونوں میں سے کسی سبب کے تحت مخلوط تعلیم کا نظام درست ہے ؟اور نہیں توکس عمر یا کس کلاس سے طلبہ و طالبات کی الگ الگ جماعتیں رکھنا ضروری ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام میں پردے کا حکم بہت اہمیت کا حامل ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس میں اپنے نبی ﷺ کو حکم  دیا کہ:

{يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ} [الأحزاب: 59]

 ترجمہ: اے نبی ﷺ! آپ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیدیجیے کہ (جب باہر نکلیں  تو) اپنے اوپر بڑی چادریں اوڑھ لیں۔

لہذا سوال میں ذکرکردہ وجوہ کی بناء پر لڑکے اور لڑکیوں کے لیے مخلوط تعلیمی نظام اور مخلوط ادارے بنانا جائز نہیں۔  

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کس عمر سے بچے اور بچیوں کی کلاسیں علیحدہ ہونی چاہیئں تو اس کا حکم یہ ہے کہ جب بچہ اور بچی مردو عورت کے پوشیدہ معاملات کو سمجھنے لگ جائے تو ان کو مخلوط رکھنا درست نہیں اور حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ  اس کی حد سات سال کی عمر ہے،  کیونکہ حدیثِ پاک میں بچے اور بچی کے  سات سال کی عمر کو  پہنچنے پر ان کے بستر علیحدہ کر نے کا حکم دیا گیا ہے۔(سنن ابی داود:(1/ 367)

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 58):

(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين الرجال) لا لانه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة، لانه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي في الحظر (ولا يجوز النظر إليه بشهوة كوجه أمرد) فإنه يحرم النظر إلى وجهها ووجه الامرد إذا شك في الشهوة، أما بدونها فيباح ولو جميلا كما اعتمده الكمال، قال: فحل النظر منوط بعدم خشية الشهوة مع عدم العورة.

وفي السراج: لا عورة للصغير جدا، ثم ما دام لم يشته فقبل ودبر، ثم تغلظ إلى عشر سنين، ثم كبالغ، وفي الاشباه: يدخل على النساء إلى خمس عشر سنة حسب۔

محمدنعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

18/جمادی الاخری 1439ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب