03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جداگانہ نظامِ تعلیم کی صورتیں
62476جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جداگانہ نظام کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

٭ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ بلڈنگ ہو اور کلاسز بھی علیحدہ علیحدہ ہوں۔

٭ دونوں کے لئے الگ الگ کلاس روم ہوں، داخل ہونے اور نکلنے کے دروازے اور قضائے حاجت کے مقامات الگ ہوں، لیکن بلڈنگ ایک ہی ہو۔

٭ ایک ہی بلڈنگ اور ایک ہی کلاس روم ہو، لیکن طلبہ وطالبات کی نشستوں کے درمیان مستقل یا عارضی ایسی دیوار یں ہوں کہ ایک استاذ دونوں کو پڑھا سکے، یا آگے لڑکوں کی نشستیں ہوں اور پیچھے لڑکیوں کی نشستیں ہوں، باقی آمد ورفت کے راستے وغیرہ الگ الگ ہوں۔

   جداگانہ نظام تعلیم کی ان صورتوں میں کون سی صورت ضروری  اور کون سی صورت جائز ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے جداگانہ نظامِ تعلیم کی مذکورہ صورتوں میں سے  پہلی صورت بہتر ہے، یعنی ہر جنس کے لیے بلڈنگ اور کلاسز دونوں علیحدہ علیحدہ ہوں۔ (جیسا کہ مدارس میں ہوتا ہے) البتہ اس کی بھی گنجائش ہے کہ دونوں کے لئے الگ الگ کلاس روم ہوں، داخل ہونے اور نکلنے کے دروازے اور قضائے حاجت کے مقامات الگ ہوں، لیکن بلڈنگ ایک ہی ہو۔ نیز طلباء کو پڑھانے والے مرد اساتذہ اور طالبات کو پڑھانے والی خواتین ہونی چاہیئیں۔

اس کے علاوہ تیسری صورت میں مفاسد اور فتنہ کا شدید اندیشہ ہے، کیونکہ آج کل  الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کے بسہولت میسر ہونے کے باعث فحاشی وعریانی عام ہو چکی ہے، اس لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو آپس میں اختلاط سے بچانا  از حد ضروری ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 406):

في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها - عليه الصلاة والسلام - من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها تقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة۔

 

محمدنعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

18/جمادی الاخری 1439ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب