| 62478 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ان اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کے لئے مخصوص لباس-یونیفارم-لازم ہے، اس میں بعض ادارے ٹائی کو لازم کرتے ہیں، لڑکیوں کو اسکرٹ پہننی ہوتی ہے اور لڑکوں کو نیکر پہننا ضروری قرار دیتے ہیں، اگر کوئی طالب علم شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ساتر لباس پہنے، یا کوئی طالبہ برقعہ پہننا چاہے تو اس کو خلافِ ڈسپلن کہہ کر باہر کردیاجاتا ہے، اب تو بعض اسکولوں میں اسکارف پہننے کو بھی منع کیاجاتا ہے،یہ مسلمانوں کے زیر انتظام اسکولوں میں ہوتا ہے، اور غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں بھی،
سوال یہ ہے کہ یونیفارم مقرر کرنے کے کیا اصول و ضوابط ہوں گے، جو شریعت کے مطابق بھی ہوں اور ایسے دیدہ زیب بھی ہوں کہ دوسرے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے یونیفارم دیکھ کر اسلامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں، نیز اگر اسکول کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ ہو اور اسلامی اسکول موجود نہ ہوں تو مسلمان طلبہ و طالبات اور ان کے اولیاء کے لئے کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرد اور عورت دونوں کے لیے شریعت کے لباس سے متعلق جدا جدا احکام ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
مرد کے لیے ہر ایسا لباس پہننا جائز ہے جس سے اعضائے مستورہ ظاہر نہ ہوں۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ لڑکوں کے لیے شلوار اورقمیص یا شلوار اور کُرتا بطورِ یونیفارم لازم کرنا چاہیے، تاہم اگر ایسا کرنا مشکل ہو تو پینٹ شرٹ اور ٹائی پہننے کو بھی یونیفارم کے طور پر نافذ کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ اب یہ غیر مسلم قوم کا شعار نہیں رہا، البتہ اس میں یہ شرط ہے کہ پینٹ اتنی چست نہ ہو کہ جس سے اعضائے مستورہ کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہے۔
عورت کو عام حالات میں چونکہ اجنبی شخص سے پردہ کرنے کا حکم ہے، اس لیے بازار وغیرہ جاتے وقت عورت کو اپنا تمام جسم چھپانے کا حکم دیا گیا ہے، لہذا لڑکیوں کی یونیفارم میں شلوار اورقمیص کے ساتھ نقاب کا ہونا بھی ضروری ہے۔نیز لڑکیوں کے لیے پینٹ شرٹ اور اسکرٹ کو بطورِ یونیفارم نافذ کرنا درست نہیں، کیونکہ عورت کے لیے یہ خلافِ شریعت لباس ہے۔ یہ حکم بالغ بچیوں کے لیے ہے، چھوٹی بچیوں (جو شہوت کی حد تک نہ پہنچی ہوں) کے لیے صرف چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔
اگر علاقے میں مسلمان انتظامیہ کے تحت چلنے والا کوئی اسکول موجود نہ ہو اور دیگر اسکولوں میں غیر شرعی لباس پہننا لازم ہو تو بچوں کو ایسے اسکولوں میں بھیجنے کی گنجائش نہیں،کیونکہ مسلمان بچوں کو غیر شرعی لباس پہنانے کی اجازت نہیں۔
حوالہ جات
......
محمدنعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
18/جمادی الاخری 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


