| 62480 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ایک قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ ماہانہ فیس لے کر بعض دفعہ طالب علم کسی وجہ سے غیر
حاضر ہوجاتا ہے ،مگر اس کا ٹیچر کلاس میں آتا رہا ہے تو کیا غیر حاضر طالب علم سے ماہانہ تعلیم وغیرہ کی فیس یا ٹرانسپورٹ فیس لینا درست ہوگا ؛حالانکہ دونوں نے اس سے استفادہ نہیں کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسکول انتظامیہ کا طلباء/ والدین کے ساتھ معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے، جب ایک بچہ اسکول میں داخلہ لے لیتا ہے تو سال بھر کے لیے اجارہ کا معاملہ منعقد ہو جاتا ہے، اب اگر طالبِ علم کسی وجہ سے اسکول سے استفادہ نہ کر سکے تو وہ مکمل فیس دینے کا پابند ہو گا، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص گھر کرایہ پر لے، پھر وہ اس کو استعمال نہ کرے تو بھی مالک یعنی موجر اس سے پوری اجرت لینے کا حق دار ہے، کیونکہ اس نے اپنا گھر اس کے سپرد کر دیا تھا، کیونکہ عقدِ اجارہ منعقد ہونے کے بعد اس گھر سے نفع اٹھانے کا حق مستاجر کا تھا، گھر خالی رکھنے سے وہ کرایہ میں کمی کا مستحق نہیں ہو گا۔
اس طرح طالب علم کے ساتھ اجارہ کا معاملہ طے ہوجانے کے بعد جب اسکول کی انتظامیہ نے طالب علم کو اسکول سے استفادہ کا مکمل اختیار دیا تھا اور اس کی تعلیمی ضروریات پوری کی تھیں، طالب علم کے غیر حاضر یا رخصت پر رہنے کی ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی۔لہذا اسکول انتظامیہ کا ایسے طلباء سے مکمل فیس وصول کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر اسکول کسی وجہ سے معمول سے ہٹ کر مہینے کے چند ایام میں بند رہے تو اس صورت میں انتظامیہ کو پورے مہینے کی فیس وصول کرنے کا اختیار نہیں، کیونکہ اب انتظامیہ کی طرف سے اسکول سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ آئی ہے، لہذا اتنے دنوں کے حساب سے فیس کم کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 400):
يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة، حتى إن من استأجر دارا أو حانوتاً مدة معلومة ولم يسكن فيها في ذلك المدة مع تمكنه من ذلك يجب الأجر ولو لم يتمكن من السكنى بأن منعه المالك أو أجنبي لا تجب الإجارة.
الفتاوى الهندية (4/ 413):
يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.
الفتاوى الهندية (4/ 413):
فإن عرض في المدة ما يمنع الانتفاع كما إذا غصبت الدار من المستأجر أوغرقت الأرض المستأجرة أو انقطع عنها الشرب أو مرض العبد أو أبق سقطت الأجرة بقدر ذلك، كذا في محيط السرخسي۔
محمدنعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
18/جمادی الاخری 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


