021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد کی کمائی ترکہ میں شامل ہونے نہ ہونے کی تفصیل
62545 میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص کا انتقال ہو ا ورورثا ء درج ذیل افراد زندہ ہیں ۔ بیوہ ، پانچ بیٹے ،چار بیٹیاں ،ایک ہمشیرہ ، والدہ ،تین بھائی اورپوتے پوتیاں اورنواسے نواسیاں ہیں ۔ ان کی آمدنی کے ذرائع تین تھے ، 1۔ ذاتی پینشن ، 2۔ اولاد کی کمائی ﴿اولاد سب والد کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے ،دوان میں شادی شدہ بھی ہیں اور ملازمت کرتےہیں ، کھانا پپنا والد کے ساتھ تھا ، اور تنخواہ ملنے پر والد کے ہاتھ پر دیتے رہے﴾ 3۔مکان کاکرایہ گھر کےاخراجات کےلئے یہ ترتیب رکھی تھی کہ مکان کاکرایہ اور دوبیٹوں کی آمدنی سے اخراجات پورے کئے جاتے تھے ، اور ان کی ذاتی پینشن اوربقیہ اولاد کی آمدنی بینک میں جمع ہوتی تھی یعنی والد صاحب خود اپنے کھاتے میں رقم جمع کرواتے اور اس رقم کا مقصد یہ بتاتے کہ اس رقم کو دیگر غیر شادی شدہ بچوں کی شادیوں اور گاؤں میں مکان کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی ،لیکن زندگی نے وفا نہیں کی ان کاانتقال ہوگیا یہ رقم بینک میں ہے ، ابھی تک سب بچوں کا کھانا پینا اپنی والدہ کےساتھ ہے۔ 1۔ اب سوال یہ ہے کہ بینک میں موجود رقم کو ترکہ میں شامل کرکے تمام ورثہ میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا یا اس رقم کو بچوں کی شادی کے لئے محفوظ رکھ کر بقیہ ترکہ کو تقسیم کیا جائے گا ؟ 2۔ موجودہ ورثہ میں فیصدی حساب سے ترکہ تقسیم فرمادیں ۔

o

۔ سائل کے بقول بینک میں موجود رقم کو ایک خاص مقصدیعنی بچوں کی شادی اورمکان کی تعمیرکے لئے جمع کیاگیاتھا ، لیکن زندگی میں یہ رقم اس مقصد میں خرچ نہ ہوسکی جسکی وجہ سے موت کے وقت تک یہ رقم مرحوم کی ملک میں ہی باقی رہی ہے ، لہذا یہ رقم ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثہ میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگی ۔ اس کو غیر شادی شدہ بچوں کی شادی کے لئے مختص نہیں کیا جائے گا ۔البتہ تقسیم ہوجانےکے بعد بالغ ورثہ چاہیں تو اپنے حصے کی رقم غیر شادی شدہ بچوں کی شادی کےلئے دے سکتے ہیں ، یہ صلہ رحمی اور ہمدردی کی بہتر صورت ہوگی ۔ 2۔مرحوم نے بوقت انتقال منقولہ غیرمنقولہ جائداد نقدی اور سونا چاندی اور چھوٹا بڑا جوبھی سامان اپنی ملک میں چھوڑا ہے سب مرحوم کا ترکہ ہے ، بینک میں موجود نقدی بھی ترکہ کے مجموعہ میں شامل ہوگی ۔ اس میں سے اولا کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالاجائے ، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس کو ادا کردیاجائے ،اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیاجائے ۔اس کے بعد بقایا مال کو ورثہ میں حسب ذیل طریقہ پر تقسیم کیاجائے گا ۔ ترکہ میں مرحوم کی والدہ کاحصہ = ٪ 666. 16 بیوہ کاحصہ = ٪ 5 .12 چاروں لڑکیوں میں سے ہرایک کاحصہ = ٪ 9 5 0. 5 پانچوں لڑکوں میں سے ہرایک کاحصہ = ٪ 911 . 10

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔