021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کے لئے بازارجانے کاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عورت کاضرورت کے لئے بازارجاناکیساہے؟جبکہ عورت کے گھرمیں بالغ حضرات موجود ہوں۔

o

عورت کسی طبعی اورشرعی عذرکی وجہ سے مکمل پردہ میں بازارجاسکتی ہے،اگرچہ بہتر یہ ہے کہ بازارسے خریداری کاکام مردحضرات کریں،لیکن اگرکوئی مجبوری ہوکہ مرد کے لئے اس وقت جانا مشکل ہویاخریدی جانے والی چیزایسی ہوکہ عورت کواس کے متعلق زیادہ معلومات ہوں توایسی صورت میں عورت کے لئے مکمل پردہ میں بازارجانے کی اجازت ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 10 / ص 129): ” ( و ) لها ( السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة ؛ و ) لها ( زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه ) أي المعجل ، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة ، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك “. تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 7 / ص 357): ” وحيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية لنظر الرجال والاستمالة قال الله تعالى { ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى } “ احکام القرآن لاشرف علی التھانوی(320/3): ” فلایجوز لھن الخروج من بیوتھن الاعند الضرورة بقدر الضروة مع اھتمام التستر والاحتجاب کل الاہتمام۔ “
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔