021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کی رقم ذمہ میں ہونے کےشبہ کاحکم
..خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کے کرام اس مسئلہ کے بارے میں 1۔ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر ہوں ۔ 2۔میرا کمپنی اسٹاک ایک خاص وضع کردہ طریقہ سے آتا ہے ۔ 3 ۔میری کمپنی کو پیمنٹس صرف ایک وضع کردہ طریقے سے ہو تی ہے ، جس میں کمپنی میرے بینک اکاونٹ سے خود رقم اٹھا لیتی ہے ۔ 4۔ کمپنی نے کچھ عرصہ قبل کمپیوٹر سسٹم تبدیل کیا جس کے بعد میرے حساب کے مطابق ،میں کمپنی کی کچھ رقم کا مقروض بن گیا ، یعنی میری طرف کچھ رقم نکلتی ہے ۔ 5۔ میں نےکمپنی کو مطلع کیا کہ حساب چیک کریں ۔ 6۔ کمپنی نے لکھ کر دیا ہے کہ وہ مخصوص رقم آپ کے ذمہ لازم نہیں ہے ۔ 7۔ لیکن کمپنی نےحساب وکتاب کی کوئی تفصیل نہیں دی اور نہ ہی یہ لکھ کر دیا اگر ایسی کوئی رقم آپ کے ذمہ نکلتی ہے تو اس مخصوص رقم کو کمپنی نے معاف کیا ہے ۔ 8۔ میرے حساب کے مطابق میں اس رقم کا ابھی بھی مقروض ہوں ، میں نے کمپنی کے لوکل نمائندہ سے اس بات کاتذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ اگر تھا تو ہم نے معاف کیا ،لیکن میرے خیال کے مطابق اس کے پاس معاف کرنے کا اختیا ر نہیں ہے ، معاف کرنے کی ای میل اسی بندے سے آنی چاہئے جس نے پہلے ای میل کی یا اس کے لیول کابندہ ،اس صورت میں اس رقم کو کیسے ادا کیا جائے تاکہ قیامت میں اس کی پکڑ نہ ہو ۔ جزاک اللہ خیرا ۔ نوٹ ۔ یاد رکھئے کہ یہ کمپنی مسلمانوں کی نہیں ہے ۔

o

اگر کمپنی کےافیشلز/مالکان نے لکھ کر دیدیا ہےکہ مخصوص رقم جو آپ اپنے ذمہ واجب الادا سمجھ رہے ہیں وہ ہمارے حساب کے مطابق آپ کے ذمہ واجب الادانہیں ہے ۔ تو آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی ہے،اب مخصوص رقم کوکمپنی کو لوٹانا شرعاآپ کے ذمہ لازم نہیں ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 245) في جامع الفصولين لو قال لغريمه إن كان لي عليك دين فقد أبرأتك وله عليه دين برئ لأنه علقه بشرط كائن فتنجز اهـ العناية شرح الهداية (7/ 333) إذا قال لآخر لك علي ألف درهم فقال ليس لي عليك شيء. ثم قال في مكانه بل لي عليك ألف درهم فليس عليه شيء؛ لأن المقر أقر بما يحتمل الإبطال وهو مستقل بإثبات ما أقر به لا محالة، وقد رده المقر له فيرتد.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔