021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متعددمرتبہ بوس وکنار میں انزال ہوجانے کی صورت میں حرمت مصاہرت کےثبوت کاحکم
..نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک نوجوان کا ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ صرف بوس و کنار کی حد تک ناجائز تعلقات تھے،لڑکے کا کہنا یہ ہے کہ زنا کی نوبت نہیں آئی اورہر بار بوس و کنار کے وقت انزال ہوتا تھا۔اب خاندان کے لوگ اس عورت کی لڑکی سے اس لڑکے کی شادی کرانا چاہتے ہیں،خاندان کے خوف سے مذکورہ عورت اور لڑکا کچھ کہہ نہیں سکتے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکورہ لڑکے کا اس لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہے؟

o

طویل عرصہ بوس و کنار کے تعلق کی وجہ سے غالب یہ ہے کہ حرمت مصاہرت قائم ہوچکی ہوگی۔ہر دفعہ انزال کا دعوی بذات خود عجیب ہے۔نیز اگر بوس وکنار کی مجلس میں کچھ وقفہ آیا ہو اور دوبارہ بوس و کنار سے انزال ہوا ہو تو انزال کے باوجود بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔پھر بیٹی سے نکاح کی صورت میں اس حرام تعلق کے جاری رہنے کا بھی قوی امکان ہے،لہذا یہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:" قوله:( والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة): ...ولنا: أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد، حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا، فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعہ ...والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد،لامن حيث إنه زنا، واللمس والنظر سبب داع إلى الوطء، فيقام مقامه في موضع الاحتياط،كذا في الهداية." (البحر الرائق:3/105،دار الكتاب الإسلامي)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔