کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کہا اگر میرا فلاں کام ہوا تو مسجد میں عصر کے بعد اتنے نوافل پڑھوں گا،پھر اس کو نذر ماننے کے بعد پتہ چلا کہ عصر کے بعدنوافل پڑھنا مکروہ ہے۔اب اس شخص کا کام ہوگیاہے۔توکیا اس شخص کی نذر منعقد ہوگئی ہے؟اگر منعقد ہوگئی ہے تو وہ اپنی نذر کیسے پوری کرے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ نذر منعقد ہوگئی ہے۔اب اس شخص کو چاہیے کہ نوافل ایسے وقت میں پڑھے جو مکروہ نہ ہو۔
حوالہ جات
قال الإمام فخر الدین الزیلعی رحمہ اللہ تعالی:" ولو نذر أن يصلي في الوقت المكروه جاز له الأداء فيه.والأفضل أن يصليه في غيره. وكذا لو شرع في الوقت المكروه في الصلاة،ومضى فيها، جاز. والأفضل أن يقطعها، ويؤديها في وقت آخر غير مكروه." (تبیین الحقائق:1/86، المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:" ولو نذر أن يصلي في الوقت المكروه ،فأدى فيه،يصح ،ويأثم. ويجب أن يصلي في غيره." (البحر الرائق:2/185،دار الکتب العلمیۃ،بیروت)