021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی علامات
..ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی علامات کیا ہیں؟ یعنی مجھے کیسے پتہ چلے کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہورہے ہیں یا نہیں؟ بعض لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ ایک عمل کے بعد دوسرے عمل کی توفیق کا مل جانا پہلے عمل کی قبولیت کی علامت ہوتی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی حج کرکے آتا ہے، مگر اس کی زندگی بدستور فسق وفجور والی ہی رہتی ہے، اور آئندہ پھر وہ حج کے لیے چلا جاتا ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمادیں۔

o

انسان کا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے اور کونسا نہیں؟ اس کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے معارف القرآن، جلد:3، صفحہ: 113 پر متعدد صحابۂ کرام اور تابعین کے اقوال نقل فرمائے ہیں جو روتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ ہمارا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوگا یا نہیں۔ چنانچہ علمائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ شرائط ذکر فرمائی ہیں جن کا خیال رکھنے سے اعمال کی قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے۔ چند شرائط درجِ ذیل ہیں:- • ایمان: عمل کی قبولیت کی سب سے پہلی شرط ایمان اور تصحیحِ عقیدہ ہے۔ ایمان کے بغیر غلط عقیدے کے ساتھ کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں۔ • تصحیحِ نیت اور اخلاص: یعنی جو بھی عمل کیا جائے، خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کی نیت سے ہو۔ اس میں ریا، تکبر وغیرہ نفسانی اغراض شامل نہ ہوں۔ • عمل کا شریعت اور سنت کے موافق ہونا: جو بھی عمل کرے، اس کا سنت اور شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ خلافِ سنت اور خلافِ شریعت عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا} [الإسراء: 19] حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اور جو شخص (اپنے اعمال میں) آخرت (کے ثواب) کی نیت رکھے گا، اور اس کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہیے ویسی ہی کوشش بھی کرے گا (مطلب یہ ہے کہ ہر کوشش بھی مفید نہیں، بلکہ کوشش صرف وہی مفید ہے جو شریعت اور سنت کے موافق ہو، کیونکہ حکم ایسی ہی کوشش کا دیا گیا ہے، جو عمل اور سعی شریعت اور سنت کے خلاف ہو وہ مقبول نہیں) بشرطیکہ وہ شخص مومن بھی ہو، سو ایسے لوگوں کی سعی مقبول ہوگی۔ (غرض اللہ تعالیٰ کے یہاں کامیابی کی شرطیں چار ہوئیں: اول تصحیحِ نیت۔۔۔۔، دوسرے اس نیت کے لیے عمل اور کوشش کرنا، صرف نیت اور ارادہ سے کوئی کام نہیں ہوتا جب تک اس کے لیے عمل نہ کرے۔ تیسری تصحیحِ عمل، یعنی سعی وعمل کا شریعت اور سنت کے مطابق ہونا۔۔۔۔، چوتھی شرط جو سب سے اہم اور سب کا مدار ہے وہ تصحیحِ عقیدہ یعنی ایمان ہے۔ ان شرائط کے بغیر کوئی عمل اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔" (معارف القرآن:5/460) • تقویٰ: شریعت کے بتائے ہوئے کام کرنا، اور جن کاموں سے شریعت نے منع کیا ہے، ان سے رکنا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "إنما یتقبل الله من المتقین"، یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور یہی ہے کہ متقی اور پرہیزگار کا عمل قبول فرمایا کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر انسان ان شرائط کی پابندی کرتے ہوئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس سے قوی امید ہے کہ وہ اسے شرفِ قبولیت سے نوازیں گے۔ "ایک نیک عمل کے بعد دوبارہ اسی نیک عمل کی توفیق ہوجانا پہلے عمل کی قبولیت کی علامت ہے"، یہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ (اصلاحی مجالس:6/15-314، از: حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم) اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو نیک عمل کرتے ہوئے مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ عمل قبول ہوگا یا نہیں؟ اور اس وجہ سے عمل چھوڑنا نہیں چاہیے۔ نیک عمل کے بعد دوبارہ اس کی توفیق ملنا یہ امید دلاتا ہے کہ پہلا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوگیا۔ لہٰذا انسان کو نیک اعمال جاری رکھنے چاہیے، اور جو کمی بیشی ہو اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیے۔ کیا پتہ اللہ تعالیٰ کو انسان کا کونسا عمل پسند آجائے اور بیڑہ پار ہوجائے۔ اس قول کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اعمال کی قبولیت کی جو بنیادی شرائط ہیں ان کو نظر انداز کیا جائے، ان شرائط کا لحاظ رکھنا بہر حال ضروری ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ باقی کسی نیک عمل کے بعد اگر انسان سے گناہ سرزد ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلا عمل قبول ہی نہیں ہوا۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا ہو۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے پر اعمال کرکے نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا چاہیے، زیادہ باریکیوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔