021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا کرتے کی کوئی خاص کیفیت منقول ہے؟
..جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

1۔۔۔ مروجہ کرتا جوکہ نیچے سے دو کونوں والا ہوتا ہے، اس کی لمبائی کی حد کتنی ہونی چاہیے؟ نیز یہ کرتا دو طرح سے تیار ہوتا ہے، ایک طریقہ میں تو آگے اور پیچھے کپڑے میں جوڑ نہیں ہوتا۔ دوسرے طریقہ میں اگلے اور پچھلے پلے میں دو جوڑ ہوتے ہیں جو بغلوں سے چل کر نیچے تک گئے ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسے کرتے کو "تینزوں والا کرتا" بھی کہتے ہیں۔ ان میں سے کونسا کرتا مسنون ہے؟ 2۔۔۔ ایسا کرتا جس کے پلے گولائی میں ہوں، کیا یہ بھی مسنون ہے؟

o

(2۔1)۔۔۔ شریعت نے کرتے کی لمبائی کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی، اپنی جسامت کے اعتبار سے جتنا لمبا بنانا چاہے گنجائش ہے، بشرطیکہ ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکے۔ نیز احادیث میں کرتے کے پلوں کے بارے میں کوئی خاص کیفیت بیان نہیں کی گئی، احادیث میں مطلق "قمیص" کے الفاظ آئے ہیں، لہٰذا سوال میں مذکورہ تینوں قسم کے کرتوں سے قمیص والی سنت پوری ہوجائے گی۔

حوالہ جات

شرح النووي على صحیح مسلم (2 / 116): وقال الإمام أبو جعفر محمد بن جرير الطبرى وغيره: وذكر إسبال الإزار وحده؛ لأنه كان عامة لباسهم، وحكم غيره من القميص وغيره حكمه، قلت: وقد جاء ذلك مبيناً منصوصاً عليه من كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم من رواية سالم بن عبد الله عن أبيه رضى الله عنهم عن النبى صلى الله عليه و سلم قال: "الاسبال فى الإزار والقميص والعمامة، من جر شيئاً خيلاء لم ينظر الله تعالى إليه يوم القيامة". رواه أبو داود والنسائى وابن ماجه باسناد حسن والله أعلم.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔