021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سِم پر اکاؤنٹ کھلوانے پر فری منٹ ملنے کا حکم
..سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کسی سِم پر جب کمپنی کا اکاؤنٹ کھلوا دیا جائے تو (رقم رکھوانے کی صورت میں)وہ روزانہ فری منٹ دیتی ہے۔اِن فری منٹ کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟نیز اکاؤنٹ کھولنا کیسا ہے؟

o

اس طرح اکاؤنٹ کھولنا جس میں قرض کی مقدار برقرار رکھنے پر نفع ملتا ہو،سود کی وعید میں داخل اور ناجائز ہے،لہذا ایسا اکاؤنٹ کھلوانے سے گریز کرنا چاہیے۔اگر کھل چکا ہو تو منٹ استعمال کرنا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ السرخسی رحمہ اللہ:والسفاتج التي تتعامله الناس على هذا إن أقرضه بغير شرط، وكتب له سفتجة بذلك، فلا بأس به، وإن شرط في القرض ذلك فهو مكروه؛ لأنه يسقط بذلك خطر الطريق عن نفسه، فهو قرض جر منفعة.( المبسوط:14/37) قال العلامة ابن نجيم رحمه الله:ولو أن المستقرض وهب منه الزائد لم يجز. وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله:نعم قالوا إنما يحل ذلك عند عدم الشرط إذا لم يكن فيه عرف ظاهر، فإن كان يعرف أن ذلك يفعل لذلك فلا. (البحر الرائق مع منحة الخالق :6/ 276) قال العلامة ابن عابدين رحمه الله:أنه لو قضاه أحسن مما عليه لا يكره إذا لم يكن مشروطا، قالوا: إنما يحل ذلك عند عدم الشرط إذا لم يكن فيه عرف ظاهر، فإن كان يعرف أن ذلك يفعل كذلك فلا. اهـ.....وعليه فلو قضاه مثل قرضه، ثم زاده درهما مفروزا، أو أكثر جاز إن لم يكن مشروطا. (رد المحتار:5/ 351)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔