021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد مرحوم کی وراثت کامسئلہ
62919میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

:کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ میرے والدکے انتقال کےبعد میرے دادا نے میرے والد کاحصہ میرے حوالہ کیا،میری والدہ حیات ہے اورہم سات بہن بھائی ہیں،دوبھائی اورپانچ بہنیں ہیں۔جوحصہ میرے والدکامیرے پاس ہے کیامیں اس حصہ کواپنے پاس رکھ سکتاہوں؟ اگروہ حصہ تقسیم کےقابل ہے توکس تناسب سے دوبھائیوں اورپانچ بہنوں میں تقسیم ہوگا؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب کی وضاحت مطلوب ہے۔

o

والدنے جوترکہ چھوڑاہے اس میں سب ورثہ کاحق ہے ،کسی ایک وارث کااس پرقابض ہوجانااوردوسرے ورثہ کوان کاحق نہ دینابہت سخت گناہ ہے،اس لئے آپ پر درج ذیل تناسب سے تمام ورثہ کوان کاحق دینالازم ہے : کل ترکہ(والدموت کے وقت جتنی چیزوں کامالک تھا) کے سوحصے بناکر12.5 فیصدمرحوم كی بیوی كا،16.666فیصدمیت كے والدكا،7.87فیصد ہربیٹی کااور15.74 ہربیٹے کاحصہ بنتاہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔