021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تسبیحات کی نذر ماننا
..قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ زید ایک گناہ میں مبتلا تھا اور جب وہ اس گناہ کا ارتکاب کرتا تو طبیعت پر بہت ناگوار گزرتا تھا کہ میں یہ گناہ کیوںکرتا ہوں۔ایک دن زید نے اپنے نفس سے کہا کہ میں اب روزانہ ایک ہزار مرتبہ استغفار پڑھا کروں گا۔ اب زید کا حال یہ ہے کہ وہ استغفارکرتا تو ہے لیکن مصروف زندگی کی وجہ سے ہزار مرتبہ مکمل نہیں کر پاتا،لیکن اس کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔اب سوال یہ ہے کہ غفلت اور وقت کی کمی کے وجہ سے سائل سے جو ناغہ ہوا اور جو مکمل نہیں کرپایا ہے اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

o

مذکورہ شخص کو چاہیے کہ جتنا ممکن ہو استغفار کرتے رہیں۔اگر کبھی چھوٹ جائے تو حرج نہیں۔ اب تک جو ناغہ ہوا ہے اس پر کوئی کفارہ نہیں۔

حوالہ جات

وفی الدرالمختار:" (ومن نذر نذرا مطلقا، أو معلقا بشرط ،وكان من جنسه واجب)…(وهو عبادة مقصودة) …(ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)." وفی رد المحتار" قوله:( ولو نذر إلخ) :قال في شرح الملتقى:والنذر عمل اللسان." (3/735،2/433،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔