021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نگرانی کے عوض اجرت لینا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بنات کا مدرسہ ہے،جس میں پچاس طالبات پڑھتی ہیں۔ان کی رہائش،کھانا پینا سب مدرسہ کے ذمہ ہیں۔طالبات سے ماہانہ پندرہ سو روپے فیس لیتے ہیں۔اس میں تین استانیاں ہیں،ان کو ماہانہ دوہزار روپے دیتے ہیں اور ایک عالم دین ہے ان کو چار ہزار روپے دیتے ہیں۔مہتمم کی زوجہ مدرسہ کی نگرانی کرتی ہے۔مدرسہ کی ترتیب اس طرح ہے کہ گھر تین منزل کا ہے۔اوپر دو منزل مدرسہ کی ہیں اور نیچے والی منزل مہتمم کا گھر ہے،ان کے پانچ بیٹے ہیں۔گیس اور بجلی کا کنکشن ایک ہے اور بل ایک ساتھ آتا ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ 1۔ان طالبات کی فیسوں سے پیسے نکال کر نگرانی کرنے والی اپنی ذات کے لیے استعمال کرسکتی ہے یا نہیں؟ 2۔مدرسہ کے پیسوں سے تمام بل کی ادائیگی صحیح ہے کہ نہیں؟اگر آدھا بل گھر کے طرف سے ہوجائے تو پھر کیا معاملہ ہوگا؟وضاحت فرمائیں۔

o

1-نگرانی کرنے والی کو نگرانی کے عوض متعین ماہانہ معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ پھر اسی معاوضے کی حد تک لے سکتی ہے،اس سے زیادہ نہیں ۔ 2-چونکہ مذکورہ بالا مدرسہ وقف کانہیں ہے،بلکہ مہتمم کا ذاتی ہے اور فیسوں کے مد میں حاصل ہونے والی رقم اس کی ملکیت ہے،لہذا اس کو اختیار ہے کہ مدرسہ کے پیسوں سے تمام بل کی ادائیگی کرے یا آدھا بل گھر کی طرف سے ادا کرے،دونوں صورتیں جائز ہیں۔

حوالہ جات

قال ملک العلماء الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:" وذكر بعض المشايخ: أن الإجارة نوعان :إجارة على المنافع، وإجارة على الأعمال… وجعل المعقود عليه في أحد النوعين المنفعة، وفي الآخر العمل. وهي في الحقيقة نوع واحد؛لأنها بيع المنفعة، فكان المعقود عليه المنفعة في النوعين جميعا. (بدائع الصنائع:4/174،175،دار الکتب العلمیۃ) قال الإمام برھان الدین المرغینانی رحمہ اللہ تعالی:"وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن ،وعليه الفتوى. (الھدایۃ:3/238،دار احياء التراث العربي ،بيروت) قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:" ويفتى اليوم بصحتها(الإجارۃ) لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان." (الدر المختار : 6/55،دار الفكر،بيروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔