021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بدعتی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم
..نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے یا غلط؟اگر کوئی آدمی مجبور ہو یا جہاں اس کا کاروبار ہو وہاں بریلویوں کی مسجد کے علاوہ کوئی اور مسجد قریب میں نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

o

نماز دین کا ستون ہے ، قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال ہوگا، لہذا پوری کوشش کرنی چاہیے کہ صحیح العقیدہ اور متبع سنت امام کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر ایسا امام میسر نہ ہو تو انفرادی کے مقابلے میں بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھ لینا بہتر ہے ۔ الا یہ کہ کوئی برملا اور بلا توجیہ و تاویل کفریہ عقیدے کا اظہار کرتا ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے ، بلکہ انفرادی پڑھے یا گھر میں جماعت کرائی جائے ۔ نیز جمعہ اور عیدین چونکہ کبھی کبھی پیش آتے ہیں اور ان کے لیے دور کی مسجد میں جانے میں کوئی بڑا حرج بھی نہیں ، لہذا ان میں بدعتی امام کی جگہ کسی صحیح العقیدہ ، متبع سنت امام کے پیچھے پڑھنے کا ہی اہتمام کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

عن أنس بن حكيم الضبي، قال: قال لي أبو هريرة: إذا أتيت أهل مصرك فأخبرهم أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن أول ما يحاسب به العبد المسلم يوم القيامة الصلاة المكتوبة.(سنن ابن ماجة:2/425/ رقم الحديث: 1425، دار الرسالة العلمية) قال العلامۃ برهان الدین الحنفی رحمہ اللہ تعالی: من صلى خلف فاسق أو مبتدع يكون محرزاً ثواب الجماعة، قال عليه السلام: صلوا خلف كل بر وفاجر . أما لا ينال ثواب من يصلي خلف تقي المذكور في قوله عليه السلام: من صلى خلف تقي عالم، فكأنما صلى خلف نبي. ( المحیط البرہانی: 1/407، المطبع: دار الکتب العلمیۃ) قال المحقق ابن الہمام رحمہ اللہ تعالی: قال أصحابنا: لا ينبغي أن يقتدى بالفاسق إلا في الجمعة؛ لأن في غيرها يجد إماما غيره اهـ. يعني أنه في غير الجمعة بسبيل من أن يتحول إلى مسجد آخر ولا يأثم في ذلك..... وفي المحيط: لو صلى خلف فاسق أو مبتدع أحرز ثواب الجماعة، لكن لا يحرز ثواب المصلي خلف تقي اهـ. يريد بالمبتدع من لم يكفر. قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :(ويكره) تنزيها (إمامة عبد) …(ومبتدع) أي صاحب بدعة، وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة …هذا إن وجد غيرهم وإلا فلا كراهة.وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قوله :(لا بمعاندة) أما لو كان معاندا للأدلة القطعية التي لا شبهة له فيها أصلا كإنكار الحشر أو حدوث العالم ونحو ذلك، فهو كافر قطعا .قوله ):بل بنوع شبهة) أي وإن كانت فاسدة. قوله: (إن وجد غيرهم) :أي من هو أحق بالإمامة منهم .قوله : (نال فضل الجماعة): أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع.(الدر المختار مع رد المحتار:1/ 559 ،562)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔