021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد کو جنسی تربیت کیسے دیں؟
..معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بھی گھر میں والدین اپنے اولاد کو جنسی طورپر کیسے تربیت دیں ؟ اگر والدین تربیت نہ دیں تو وہ باہر معاشرے میں اپنے ہم عمرلڑکوں یا لڑکیوں سے غلط تربیت سیکھے گا۔

o

حوالہ نمبر: 39/6426 فتویٰ نمبر: سائل: حضرت یار مجیب: سیدحکیم شاہ مفتی : محمدحسین خلیل خیل مفتی: آفتاب احمد مفتی: مفتی: کتاب: معاشرت کے آداب اورحقوق باب: معاشرت کے متفرق آداب اورحقوق تاریخ: 10/4/2018 اولاد کی تربیت کرناوالدین کے ذمہ فرض ہے،قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:” قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ“․(التحریم:۶) ترجمہ:”اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں“۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا کہ:”علموھم وأدِّبوھم“․ترجمہ:”ان (اپنی ولاد) کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ“۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔ اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بھی ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”مَانَحَلَ والدٌ أفضلَ مِنْ أدبٍ حسنٍ“ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲)ترجمہ:”کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے“۔یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے- ”عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قالوا: یارسول اللّٰہ! قد علمنا ما حق الوالد فماحق الولد؟ قال: أن یحسن اسمہ ویحسن أدبہ“ (سنن بیہقی)ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے “- ایک اورحدیث میں ”یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دار اور رکھوالا ہے، اُنھیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے“۔ یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں۔نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ہے، بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اُس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ”اپنی اولاد کوادب سکھلاوٴ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔“ (شعب الإیمان للبیہقی) بچوں کی دینی تربیت اوراوربالخصوص جنسی تعلیم وتربیت کےحوالے سےدرج ذیل اصولوں کو مدنظررکھیں: ۱۔ بچوں کی نگہداشت پرپوری توجہ دیں اور جنسی میلان اور اسے بھڑکانے والے تمام جدید آلات، انٹرنیٹ، موبائل وغیرہ کے استعمال اوربالخصوص غلط استعمال پر نگاہ رکھیں۔ 2۔ جب بچے دس سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے بستر الگ کر دیں اور انہیں اکٹھے نہ سونے دیں، بلکہ ان کی خواب گاہیں علیحدہ کر دیں اور اس میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تفریق نہ کریں، بلکہ جو بچہ یا بچی دس سال کی عمر کو پہنچ جائے اس کا بستر الگ کر دیں، اس عمل سے آپ بہت سے فتنوں سے محفوظ رہیں گے اور بچے بے راہ روی اور جنسے حملوں کا شکار نہ ہوں گے۔ 3۔بچی جیسے ہی مشتھات ہوجائے اسے نقاب پہننے کی ترغیب دیں تاکہ جنسی چھیڑ خانی سے بچ سکےاوربلاسخت ضرورت ان کو گھر سے باہرنہ چھوڑیں اللہ کا فرمان ہے : (وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ (الاحزاب : 33) 4۔ مرد و عورت کے مابین اختلاط سے بچائیں تاکہ فتنہ قریب بھی نہ آسکے،بالخصوص قریب کے اجنبی مردوں سے اختلاط نہ ہونے دیں کیونکہ حضور اکرم ؐ کا ارشاد ہے:’’لا یخلون احدکم بامرأۃ فان الشیطان ثالثھما‘‘(احمد:۱؍۱۸)نیز نبی ﷺ کا فرمان ہے : إياكم والدخولَ على النساءِ . فقال رجلٌ من الأنصارِ : يا رسولَ اللهِ ! أفرأيتَ الحموَ ؟ قال : الحموُ الموتُ(صحيح مسلم:2172) 5۔ نظروں کی حفاظت کا عادی بنائیں کیونکہ نظر شیطان کے تیروں میں سے پہلا تیرہے، اس لئے سب سے پہلے اس کی حفاظت کی جائے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے قل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور30) 6۔ سب سے بہتر اور مناسب یہ ہے کہ جوان ہوتے ہی شادی کردی جائے تاکہ ہر قسم کے فتنہ کا سد باب ہوسکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے جس کے پاس ضروریاتِ نکاح کی استطاعت ہو وہ شادی کرے، کیونکہ یہ نظروں کوجھکا دیتی ہے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرتی ہے’’یا معشرالشباب! من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض البصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ رجاء‘‘(بخاری:۵۰۳۰، مسلم:۱۴۲۵) وفی شرح النووي على مسلم (9/ 173) واختلف العلماء في المراد بالباءة هنا على قولين يرجعان إلى معنى واحد أصحهما أن المراد معناها اللغوي وهو الجماع فتقديره من استطاع منكم الجماع لقدرته على مؤنه وهي مؤن النكاح فليتزوج ومن لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه فعليه بالصوم ليدفع شهوته ويقطع شر منيه كما يقطعه الوجاء وعلى هذا القول وقع الخطاب مع الشبان الذين هم مظنة شهوة النساء ولا ينفكون عنها غالبا والقول الثاني أن المراد هنا بالباءة مؤن النكاح سميت باسم ما يلازمها وتقديره من استطاع منكم مؤن النكاح فليتزوج ومن لم يستطعها فليصم ليدفع شهوته والذي حمل القائلين بهذا على هذا أنهم قالوا قوله صلى الله عليه وسلم ومن لم يستطع فعليه بالصوم قالوا والعاجز عن الجماع لا يحتاج إلى الصوم لدفع الشهوة فوجب تأويل الباءة على المؤن وأجاب الأولون بما قدمناه في القول الأول وهو أن تقديره من لم يستطع الجماع لعجزه عن مؤنه وهو محتاج إلى الجماع فعليه بالصوم . 7۔بچوں کے دوستوں پر نظررکھیں کہ وہ کہ برے تو نہیں ،کیونکہ بری صحبت کا برا اثرہوتاہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے "کونومع الصادقین" اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اچھے اوربرے مصاحب کی مثال مشک اٹھانے والے اوربھٹی جھونکے والے کی طرح ہے،مشک اٹھانے والاتمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدلوں گےیا تمہیں اس سے خوشبو آئے گی اورجبکہ بھٹی جھونکے والایا تو تمہارے کپڑے جلادے گایا تمہیں اس سے ناگوار بوآئے گی ۔(صحیح مسلم حدیث نمبر2628)نیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنے گہرے دوست کی دین پرہوتاہے تو تم سے ہرایک دیکھے کہ وہ کس کو گہرادوست بنائے ہوئے ہے(ابوداود 4/341) بچوں میں ایک خاص عمر میں جنسی میلان کا پایاجانا اور اس بارے میں تجسس ہونا ایک فطری عمل ہے، اسے نہ تو دبانے اور مسخ کرنے کی ضرورت ہے اور نا ہی ابھارنے اور اکسانے کی، بلکہ ان مرحلوں میں عمر کی رعایت کرتے ہوئے علمی ودینی تربیت کی طرف توجہ مرکوز کرنا چاہئے، اہل خانہ ، اسکول اور معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ مناسب رویہ اختیار کریں،اور انہیں یہ بتلائیں کہ دوسروں کے اعضاء کو دیکھنا یا انہیں بد نیتی یا بد نگاہی سے دیکھنا عنداللہ مبغوض عمل ہے، اسے نہ صرف جسمانی وروحانی نقصان ہے بلکہ نفس کے مردہ ہوجانے اور اللہ کے ناراض ہوجانے کا سبب بھی ہے ۔

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔