021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی چیز کو میلےہاتھ لگانے سے وہ ناپاک نہیں ہوجاتی
63051جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

حوالہ نمبر: 39/6577 فتویٰ نمبر: سائل: مجیب: سیدحکیم شاہ مفتی : محمدحسین خلیل خیل مفتی: آفتاب احمد مفتی: مفتی: کتاب: جائز اورناجائزامورکابیان باب: متفرق جائزاورناجائز امور تاریخ: 2018/4/10ء کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے کے مسجد کے ارد گرد زیادہ دکانیں مرغی گوشت اورٹائرپنچرکی ہیں اور ان دکانوں میں کام کرنے والے اکثر مسجد کے بیت الخلاء استعمال کرتے ہیں اورانہیں گندے ہاتھوں کے ساتھ آتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ٹونٹی ،لوٹا اوراس کا دستہ وغیرہ کو پاک سمجھا جائے گا یا نہیں ؟

o

اگر ہاتھوں پر صرف میل کچیل ہو اورنجاست نہ ہو تو ٹونٹی ،لوٹا اور اس کا دستہ وغیرہ کوپاک سمجھا جائےگا اوراگرہاتھوں میل کچیل کے ساتھ نجاست بھی لگی ہو اور وہ ٹونٹی ،لوٹے یا اس کے دستے کو لگ جائے تو پھر وہ چیز ناپاک ہوجائے گی، اگر نجاست کے بارے میں کنفرم نہ ہو تو یہ چیزیں بہرحال پاک سمجھی جائیں،

حوالہ جات

لأنّ الیقین لایزول بالشک (وفی البناية شرح الهداية (1/ 402) في " المبسوط " إذا غسل يده للطعام قبل الأكل، وبعده يصير الماء مستعملا، بخلاف ما لو غسل يده من الوسخ والعجين فإنه لا يصير مستعملا؛ لأنه لا قربة ولا إزالة حدث. وفی البحر الرائق (1/ 96) ولو غسل يده من الوسخ لا يصير مستعملا لعدم إزالة الحدث وإقامة القربة كذا في المحيط. وفی الجوهرة النيرة (1/ 16) إذا غسل ثوبا من الوسخ من غير نجاسة لا يكون مستعملا.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔