021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ظہر کی قبلیہ سنتیں درمیان میں چھوڑنے پر قضاء
..نماز کا بیانسنتوں او رنوافل کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص ظہر کے فرض سے پہلے چار سنتیں پڑھ رہا ہوں،دو رکعتیں پڑھنے کے بعد جماعت کھڑی ہونے کی وجہ سے ان سنتوں کو چھوڑ دیں،تو کیا ان سنتوں کی قضاء لازم ہے؟اگر لازم ہے تو کتنی رکعتیں قضاء کرے؟

o

چار رکعات قضاء پڑھنا لازم ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ ا للہ تعالی:" أما إذا شرع في الأربع التي قبل الظهر وقبل الجمعة أو بعدها، ثم قطع في الشفع الأول أو الثاني، يلزمه قضاء الأربع باتفاق؛لأنها لم تشرع إلا بتسليمة واحدة، فإنها لم تنقل عنه عليه الصلاة والسلام إلا كذلك، فهي بمنزلة صلاة واحدة، ولذا لا يصلي في القعدة الأولى،ولا يستفتح في الثالثة." (رد المحتار علی الدر المختار:2/31،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔