021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موقوفہ جائیداد میراث میں شامل نہیں ہوگی
..وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

زید نے اپنی زندگی میں اپنے ذاتی دو پلاٹوں پر (جس میں سے ایک ان کے اپنے نام پر اور ایک ان کے والدہ کے نام پر تھا) بیت الخیر کے نام سے لڑکیوں کے لیے ایک دینی مدرسہ اور ایک اسلامی اسکول شروع کیا تھا جس کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کررہے تھے۔ زید نے انہیں زبانی اور عملی طور پر وقف کردیا تھا اور متعدد بار اس بات کا اظہار کیا تھا کہ میں اپنی اس جائیداد کو وقف للہ کرچکا ہوں، لیکن ان کی زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ اس کی قانونی کاروائی نہ کرپائے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء اس بات پر متفق ہوگئے کہ ان کے اس مدرسہ کو وقف للہ سمجھا جائے اور ان کی خواہش کے مطابق بعینہ حسبِ معمول وحسبِ مقصد چلتا رہے۔ اس کے علاوہ باقی ترکہ قابلِ تقسیم سمجھا جائے، اسی معاہدے کے تحت بعض ورثاء کو مکمل اور بعض کو جزوی ادائیگی کی جاچکی ہے۔ لیکن باہم معاہدے پر باقاعدہ دستخط کے چند ماہ بعد اب ورثاء میں سے چند ایک کی چاہت ہے اس پلاٹ (جس پر مدرسہ اور اسکول قائم ہے) کو بھی قابلِ تقسیم سمجھتے ہوئے اس میں س ان کا شرعی حصہ دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان ورثاء کا معاہدہ پر متفق ہونے اور دستخط کرنے کے بعد یہ مطالبہ کرنا صحیح ہے؟

o

جب زید نے مذکورہ زمین قول کے ذریعے وقف کی اور اس پر باقاعدہ مدرسہ اور اسکول بھی بنایا تو یہ زمین اسی وقت ان کی ملکیت سے نکل گئی تھی۔ کیونکہ شرعاً وقف تام ہونے کے لیے قانونی کاروائی ضروری نہیں، قانونی کاروائی کے بغیر بھی وقف تام ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اب بعض ورثاء کا مذکورہ زمین کو میراث میں شامل کرنے اور اس میں حصے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (12/ 58): قال: وإن جعل أرضا له مسجدا لعامة المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه وإن مات لم يكن ميراثا" لأنه حرزها عن ملكه وجعلها خالصة لله تعالى قال الله تعالى:{وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ} [الجن: من الآية18] وقال عليه الصلاة والسلام: "من بنى لله مسجداً ولو كمفحص قطاة بنى الله تعالى له بيتا في الجنة ولا رجوع له فيما جعله لله تعالى خالصا كالصدقة التي أمضاها" ثم عند أبي يوسف يصير مسجدا إذا أبانه عن ملكه وأذن للناس بالصلاة فيه وإن لم يصل فيه أحدكما في الوقف على مذهبه أن الوقف يتم بفعل الواقف من غير تسليم إلى المتولى، وعند محمد لا يصير مسجدا ما لم يصل الناس فيه بالجماعة بنى على مذهبه أن الوقف لا يتم إلا بالتسليم إلى المتولى وعن أبي حنيفة فيه روايتان…… وكان القاضي أبو عاصم رحمه الله تعالى يقول قول أبي يوسف من حيث المعنى أقوى لمقاربته بين الوقف والعتق من حيث أنه ليس في كل واحد منهما معنى التمليك وقول محمد رحمه الله تعالى أقرب إلى موافقة الآثار وعلى هذا الخان والرباط يتم عند أبي يوسف رحمه الله تعالى بالتخلية بينه وبين الناس وإن لم ينزل فيه أحد ولا يتم عند محمد رحمه الله تعالى إلا بالتسليم إلى المتولى أو بنزول الناس فيه وكذلك المقبرة والسقاية عند محمد لا تتم إلا بالتسليم إلى قيم يقوم عليه أو بأن يدفنوا في المقبرة رجلا واحدا أو يسقي من السقاية رجل واحد. الدر المختار (4/ 348): (ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه،ابن كمال (ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني (ويجعل آخره لجهة) قربة (لا تنقطع) هذا بيان شرائطه الخاصة على قول محمد ؛ لأنه كالصدقة وجعله أبو يوسف كالإعتاق. واختلف الترجيح والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل،بحر. وفي الدرر وصدر الشريعة وبه يفتى وأقره المصنف. حاشية ابن عابدين (4/ 351): قوله ( واختلف الترجيح ) مع التصريح في كل منهما بأن الفتوى عليه، لكن في الفتح أن قول أبي يوسف أوجه عند المحققين. البحر الرائق (5/ 205): وأما ركنه فالألفاظ الخاصة الدالة عليه وهي ستة وعشرون لفظاً:- الأول: أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ولا خلاف فيه ….. الخامس: "موقوفة" فقط لا يصح إلا عند أبي يوسف فإنه يجعلها بمجرد هذا اللفظ موقوفة على الفقراء وإذا كان مفيدا لخصوص المصرف أعني الفقراء لزم كونه مؤبدا لأن جهة الفقراء لا تنقطع. قال الصدر الشهيد: ومشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف ونحن نفتي بقوله أيضا لمكان العرف.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔