021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قطروں کے مریض کی طہارت کا مسئلہ
..پاکی کے مسائلمعذور کے احکام

سوال

ایک آدمی 80 - 70 سال کی عمر میں ہے جو (پیشاب کے قطروں کے) جریان کی بیماری میں مبتلا ہے، کبھی واقعی قطرے گرجاتے ہیں اور کبھی خیال یا وہم سی ہوتی ہے کہ قطرے گرگئے۔ ایسے شخص کے لیے اس طرح کی بیماری میں کیا حکم ہے؟ اگر یہی آدمی حج یا عمرہ میں ہو، زیادہ ہجوم (رش) کی وجہ سے وضوء بنانا مشکل ہو اور جماعت کی نماز نکل رہی ہو یا مسجدِ حرام میں اعتکاف میں ہو تو ان حالات میں وضوء کے متعلق کیا حکم ہے؟

o

واضح رہے کہ شریعت میں شک یا وہم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس لیے وضوء کرنے کے بعد جب تک قطرے نکلنے کا یقین نہ ہو اس وقت تک مذکورہ شخص باوضوء ہی سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر قطرے نکلنے کا یقین ہوجائے تو وضوء ٹوٹ جائے گا، اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا۔ عام حالات اور حج واعتکاف کے ایام سب میں یہی حکم ہے، کیونکہ وضوء نماز کی شرائط میں سے ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ تاہم مذکورہ بالا حکم اس وقت ہے جب یہ آدمی "شرعی معذور (جس کی تفصیل آگے آرہی ہے) نہ ہو۔ لیکن اگر یہ شخص شرعی معذور ہے تو پھر ایک نماز کے وقت کےاندر ایک دفعہ وضوکرلینا کافی ہے، پھرخواہ وہ عذرجاری رہے، وقت کے اندر اس سےوضوءنہیں ٹوٹےگا(البتہ جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوگا تو دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا)۔تاہم اس خاص عذرکےعلاوہ اگرکوئی اورناقض وضوء امر(مثلا: خون کانکل جانا) پایاجائےتواس سے (وقت کے اندر بھی) وضوءٹوٹ جائےگا۔ "شرعی معذور" وہ شخص کہلاتا ہے جس کو کوئی ناقضِ وضوء امر اتنے تسلسل کےساتھ پیش آئے کہ فرض نماز کےپورےوقت میں مسلسل جاری رہے،درمیان میں اتنا وقت بھی نہ ملےکہ وضوء کےمحض فرائض ادا کرکے فرض نماز فرائض اور واجبات کےساتھ ادا کرسکے۔ کسی ایک نماز کے وقت میں جب ایسی حالت پیش آجائے تو آدمی معذور ہوجاتا ہے، اس طرح سے ایک دفعہ معذوربن جانےکےبعداگلی نمازکےوقت میں اس عذرکا اس طرح تسلسل کےساتھ پایاجاناضروری نہیں ہے، بلکہ اگراگلی نمازکےوقت میں وہ عذرایک دفعہ بھی پیش آجائےتومعذوروالاحکم باقی رہتاہے۔تاہم اگرکسی نمازکامکمل وقت اس طرح گزرجائےکہ وہ عذرایک دفعہ بھی پیش نہ آئےتوپھر شرعی معذوروالا حکم نہیں رہے گا، لہٰذا اس کے بعد اگر وہ عذرپیش آئےگا تو اس سے وضوء ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضوء بنانا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر (ص: 93): الشك : تساوي الطرفين والظن : الطرف الراجح وهو ترجيح جهة الصواب والوهم : رجحان جهة الخطأ وأما : أكبر الرأي وغالب الظن فهو : الطرف الراجح إذا أخذ به القلب وهو المعتبر عند الفقهاء كما ذكره اللامشي في أصوله و حاصله أن الظن عند الفقهاء من قبيل الشك لأنهم يريدون به التردد بين وجود الشيء وعدمه سواء استويا أو ترجح أحدهما وكذا قالوا في كتاب الإقرار : لو قال : له علي ألف درهم في ظني لا يلزمه شيء لأنه للشك انتهى. وغالب الظن عندهم ملحق باليقين وهو الذي تبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب، صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق، وصرحوا في الطلاق بأنه إذا ظن الوقوع لم يقع وإذا غلب على ظنه وقع. الدر المختار (1/ 305): ( وصاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث ( ولو حكما ) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم ( وهذا شرط ) العذر ( في حق الابتداء وفي ) حق ( البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ) ولو مرة ( وفي ) حق الزوال يشترط ( استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت ( حقيقة ) لأنه الانقطاع الكامل. ( وحكمه الوضوء ) لا غسل ثوبه ونحو ( لكل فرض ) اللام للوقت كما في لدلوك الشمس (الإسراء 18 ) ( ثم يصلي ) به ( فيه فرضا ونفلا ) فدخل الواجب بالأولى ( فإذا خرج الوقت بطل ) أي ظهر حدثه السابق حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر ( وإن سال على ثوبه ) فوق الدرهم ( جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها ) أي الصلاة ( وإلا ) يتنجس قبل فراغه ( فلا ) يجوز ترك غسله هو المختار للفتوى. حاشية ابن عابدين (1/ 307): قوله ( هو المختار للفتوى ) وقيل لا يجب غسله أصلا وقيل إن كان مقيدا بأن لا يصيبه مرة أخرى يجب وإن كان يصيبه المرة بعد الأخرى فلا واختاره السرخسي، بحر. قلت: بل في البدائع أنه اختيار مشايخنا وهو الصحيح ا هـ فإن لم يمكن التوفيق بحمله على ما في المتن فهو أوسع على المعذورين ويؤيد التوفيق ما في الحلية عن الزاهدي عن البقالي لو علمت المستحاضة أنها لو غسلته يبقى طاهرا إلى أن تصلي يجب الإجماع وإن علمت أنه يعود نجسا غسلته عند أبي يوسف دون محمد ا هـ لكن فيها عن الزاهدي أيضا عن قاضي صدر أنه لو يبقى طاهرا إلى أن تفرغ من الصلاة ولا يبقى إلى أن يخرج الوقت فعندنا تصلي بدون غسله خلافا للشافعي لأن الرخصة عندنا مقررة بخروج الوقت وعنده بالفراغ من الصلاة ا هـ لكن هذا قول ابن مقاتل الرازي فإنه يقول يجب غسله في وقت كل صلاة قياسا على الوضوء. وأجاب عنه في البدائع بأن حكم الحدث عرفناه بالنص ونجاسة الثوب ليست في معناه فلا تلحق به.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔