021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی چھت کو بطورِ درسگاہ اور رہائش استعمال کرنا
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ یہاں جامع سجد کی چھت پر تین کمرے بنائے گیے ہیں بچوں کو تعلیم قرآن دینے کے لیے،ان کمروں میں بچوں کو قرآن حفظ کروایا جاتا ہے،بچوں اور مدرس کا قیام بھی ان کمروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ مدرس اپنی اہلیہ کے ہمراہ ان کمروں میں مستقل قیام کرسکتا ہے یا نہیں،مستقل قیام کی صورت میں زوجین کا حقوق زوجیت ادا کرنا اور ماہانہ ماہواری کی وجہ سے زوجین کو گناہ ہوگا یا نہیں اور اس مستقل قیام سے مسجد کی توہین ہوگی یا نہیں،نیز جماعت کے وقت نمازی چھت پر بھی ہوتے ہیں۔

o

مسجد اللہ کاگھر ہے،اسے دنیوی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں،خصوصا گھر کے طور پر رہائش کے لیے استعمال کرنا،کیونکہ گھر کو جن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مسجد کو ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں۔ جب تک متبادل جگہ کا انتظام نہیں ہوجاتا اس وقت تک درج ذیل شرائط کے ساتھ ان کمروں کو صرف درسگاہ کے طور پر،نہ کہ رہائش کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہے: 1۔مدرس صرف بقدر ضرورت تنخواہ پر اکتفاء کرے۔ 2۔اس کی وجہ سے دیگر نمازیوں کی عبادت میں خلل نہ آئے۔ 3۔ایسے کمسن اور ناسمجھ بچوں کو نہ آنے دیا جائے جو مسجد کے آداب سے واقف نہ ہوں۔ البتہ اگر یہ کمرے مسجد کی چھت پر مسجد کی حدود سے باہر وضوء خانے یا استنجاء خانے کے اوپر بنائے گئے ہوں،یااس جگہ کو مسجد شرعی قرار دینے سے پہلے اس کی چھت پر امام کے لیے مکان یا مصالح مسجد کے لیے کچھ اور بنانے کی نیت کرلی گئی تھی اور لوگوں کو اس کی اطلاع بھی کردی گئی تھی تو پھران کمروں کو سوال میں ذکر کیے گئے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بذات خود جائز تو ہے،لیکن مسجد کے ساتھ انتہائی حد تک قربت کی وجہ سے بیوی سمیت ان کمروں میں رہائش رکھنا احترام مسجد کے پیش نظر بہتر نہیں ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (1/ 661): "ویحرم فیہ السوال......وأكل، ونوم إلا لمعتكف وغريب، وأكل نحو ثوم، ويمنع منه؛ وكذا كل مؤذ ولو بلسانه وكل عقد إلا لمعتكف بشرطه". قال ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله وكل عقد) الظاهر أن المراد به عقد مبادلة ليخرج نحو الهبة تأمل، وصرح في الأشباه وغيرها بأنه يستحب عقد النكاح في المسجد وسيأتي في النكاح. (قوله بشرطه) وهو أن لا يكون للتجارة، بل يكون ما يحتاجه لنفسه أو عياله بدون إحضار السلعة". "رد المحتار" (1/ 656): "(قوله الوطء فوقه) أي الجماع خزائن؛ أما الوطء فوقه بالقدم فغير مكروه إلا في الكعبة لغير عذر، لقولهم بكراهة الصلاة فوقها. ثم رأيت القهستاني نقل عن المفيد كراهة الصعود على سطح المسجد اهـ ويلزمه كراهة الصلاة أيضا فوقه فليتأمل (قوله لأنه مسجد) علة لكراهة ما ذكر فوقه. قال الزيلعي: ولهذا يصح اقتداء من على سطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام. ولا يبطل الاعتكاف بالصعود إليه ولا يحل للجنب والحائض والنفساء الوقوف عليه؛ ولو حلف لا يدخل هذه الدار فوقف على سطحها يحنث اهـ". "الدر المختار " (4/ 358): " لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔