021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نزلے کی وجہ سے نماز میں ناک صاف کرنے کا حکم
..نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کے مفسدات میں ایک یہ بھی ہے کہ جیب کوئی کپڑا نکال کر ناک صاف کرنا،اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھے جب بھی زکام لگتا ہے تو اتنا تیز ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں رومال بھیگ جاتا ہے،چارکعات نماز پڑھنا میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے،اگر صاف نہ کروں تو پانی کپڑوں اور صف پر گرتا رہتا ہے،بازو سے اچھی طرح ناک صاف نہیں ہوتی،ایسی حالت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

o

بلاضرورت نماز میں ہاتھ ہلانا مکروہ تحریمی ہے،لیکن ضروت کے وقت نماز میں ہاتھ ہلانے کی گنجائش ہے،اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا،لہذامذکورہ صورت میں آپ ایک ہاتھ استعمال کرکےناک صاف کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

"الدر المختار" (1/ 640): "(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل (وعبثه به) أي بثوبه (وبجسده) للنهي إلا لحاجة ولا بأس به خارج صلاة". قال ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله وعبثه) هو فعل لغرض غير صحيح . قال في النهاية: وحاصله أن كل عمل هو مفيد للمصلي فلا بأس به. أصله ما روي «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - عرق في صلاته فسلت العرق عن جبينه» أي مسحه لأنه كان يؤذيه فكان مفيدا. وفي زمن الصيف كان إذا قام من السجود نفض ثوبه يمنة أو يسرة لأنه كان مفيدا كي لا تبقى صورة. فأما ما ليس بمفيدفهوالعبث اه..... (قوله إلا لحاجة) كحك بدنه لشيء أكله وأضره وسلت عرق يؤلمه ويشغل قلبه. وهذا لو بدون عمل كثير". "الفتاوى الهندية" (1/ 105): "ظهر من أنفه ذنين في الصلاة فمسحه أولى من أن يقطر منه على الأرض. كذا في القنية".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔