021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمین اور تاجروں کا بغیر احرام کے میقات سے گزرنا
63745حج کے احکام ومسائلمیقات کابیان

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ روزانہ ہزاروں لوگ میقات کی حدود سے گزرتے ہیں،آیا احرام باندھنا ہر مسلمان پر فرض ہے یا صرف اس پر جو عمرہ یا حج کی نیت سے میقات سے گزرے،کیونکہ روز مرہ کاموں اور کاروبار کے لیے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ میقات سے گزرتے ہیں۔

o

جو لوگ آفاقی ہیں یعنی میقات کی حدود سے باہر رہتے ہیں،اگر وہ حرم نہ جانا چاہتے ہوں،بلکہ میقات سے گزر کر حل میں کسی جگہ جانا چاہتے ہوں تب تو ان کے ذمے احرام باندھنا لازم نہیں، اور وہاں جانے کے بعد)اگر حج یا عمرے کی نیت نہ ہو( تو بغیر احرام کے حرم میں بھی داخل ہوسکتے ہیں،کیونکہ حل میں کسی جگہ ٹہرنے کے بعد وہ ان لوگوں کے حکم میں ہوجائیں گے جو حل میں رہتے ہیں اور حلی کے لیے بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونا جائز ہے لیکن اگر وہ میقات سے گزر کر حرم جانا چاہتے ہوں تو پھر اصولا ان کے ذمے احرام باندھنا لازم ہے،چاہے ان کا ارادہ حج یا عمرے کا ہو،یا تجارت و ملازمت کا،البتہ ایسا شخص جس کا آنا جانا روزانہ یا ہر ہفتے ہو تو اس کے حق میں حرج اور مشقت کی وجہ سے ہمارے زمانے کے علمائے کرام اسے گنجائش دی ہے کہ وہ بغیر احرام کے بھی حرم کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے،بشرطیکہ اس کا حج یا عمرے کا ارادہ نہ ہو اور جس شخص کو مہینے دو مہینے میں آنے جانے کی نوبت آتی ہو اس کے حق میں کوئی گنجائش نہیں۔(جدیدفقہی مسائل:109/2)

حوالہ جات

"الدر المختار "(2/ 476): "(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة. ولو عند المجاوزة على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب (له دخول مكة غير محرم ووقته البستان ولا شيء عليه) لأنه التحق بأهله كما مر، وهذه حيلة لآفاقي يريد دخول مكة بلا إحرام". "مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح "(8/ 353): "وقال أبو عمر: لا أعلم خلافًا بين فقهاء الأمصار في الحطابين ومن يدمن الاختلاف إلى مكة ويكثره في اليوم والليلة أنهم لا يؤمرون بذلك لما عليهم فيه من المشقة – انتهى". "المنتقى شرح الموطأ" (2/ 205): "لا يجوز تأخير الإحرام لمريد النسك عن ذلك الموضع إلا لضرورة ولا خلاف في ذلك لمن أراد النسك وأما من لم يرده وأراد دخول مكة فإنه على ضربين: أحدهما: أن يكون دخوله مكة يتكرر كالأكرياء والحطابين فهؤلاء لا بأس بدخولهم مكة بغير إحرام ولا خلاف في ذلك؛ لأن المشقة تلحقهم بتكرر الإحرام والإتيان بجميع النسك".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔