021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وصولی سے پہلے مہر معاف کرنا
..نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کی شادی ہوئی تو اس عورت کو مہر کب دے گا،اگر عورت مہر وصول کرنے سے پہلے معاف کردے تو کیا عورت کے مہر معاف کرنے سے معاف ہوجائے گا یا نہیں،اگر عورت سے مہر معاف کرایا جائے تو کیا حکم ہوگا؟

o

اگر مہر معجل ہو یعنی فوری طور پر دینا طے کیا گیا ہو تو رخصتی کے بعد فوری طور پر اس کی ادائیگی لازم ہے اور اگر مؤجل یعنی مہر کی ادائیگی کے لیے بعد کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہو تو مقررہ وقت پر ادائیگی لازم ہوگی،اس سے پہلے بیوی مطالبہ نہیں کرسکتی۔ نیز مہر عورت کا حق ہے،جسے لینے اور معاف کرنے کا اسے مکمل اختیار ہے،لہذا اگر وہ کسی قسم کے دباؤ کے بغیرخود ہی دلی رضامندی سے معاف کردے تو معاف ہوجائے گا۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (ج 10 / ص 38) : "( وصح حطها ) لكله أو بعضه ( عنه ) قبل أو لا ، ويرتد بالرد كما في البحر". قال ابن عابدین رحمہ اللہ":( قوله وصح حطها ) الحط : الإسقاط كما في المغرب ، وقيد بحطها؛ لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة ، ولو كبيرة توقف على إجازتها ، ولا بد من رضاها ". "الفتاوى الهندية " (ج 7 / ص 236): " للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها ، كذا في شرح الطحاوي ". "شرح المجلۃ"(4/ 572): اذا أبرأ واحد آخر من حق یسقط حقہ ذلک ،ولیس لہ دعوی ذلک الحق".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔