03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکروہات طواف کےکراہت کی نوعیت کی تعیین
64382حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ( مندرجہ ذیل) چیزیں طواف  میں مکروہ تنزیہی ہیں یا مکروہ تحریمی ہیں؟ برائے کرام وضاحت فرمائیں۔

۱۔فضول  اوربے فائدہ بات چیت کرنا۔

۲۔ خرید وفروخت یا اس کی گفتگو کرنا۔

۳۔کوئی ایسا شعر پڑھنا جوحمد ثناء سے خالی ہو۔

۴۔ مطلق شعر پڑھنا ۔(بعض نے مطلقاشعر پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔)

۵۔دعاء یا قرآن مجید اتنی بلند آواز سے پڑھنا جس سے  طواف کرنے والوں اور نمازیوں کو تشویش ہو۔

۶۔ناپاک کپڑوں میں طواف کرنا۔

۷۔رمل اور اضطجاع کو بلا عذر  ترک کرنا۔(یعنی جس طواف میں اضطجاع اوررمل مسنون ہوں۔)

۸۔طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ کرنا۔

۹۔دوطواف اس طرح اکھٹے کرنا کہ دوگانہ طواف بیچ میں نہ پڑھے۔

۱۰۔دونوں ہاتھ طواف کی نیت کے وقت بلا تکبیر کے اٹھانا۔

۱۱۔خطبہ اور جماعت کھڑی ہوجانے کے وقت طواف کرنا۔

۱۲۔طواف کے دوران کھانا کھانا۔

۱۳۔ طواف کے دواران پانی پینا۔(بعض نے پینے کو بھی مکروہ لکھا ہے۔)

 ۱۴۔اسی طرح شدیدبھوک اور غصہ کی حالت میں طواف کرنا۔

۱۵۔طواف کرتے ہوئےنماز کی طرح ہاتھ باندھنا یا کولھے اور گردن پر ہاتھ رکھنا۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       فضول بات چیت کرنا، حمد ثناء سے خالی اشعار پڑھنا،اور بعض کے نزدیک مطلق اشعار پڑھنا،پانی پینا یہ باتیں مکروہ تنزیہی ہیں اور خرید وفروخت یا اس کی گفتگو،دعاء یا قرآن مجید اتنی بلند آواز سے پڑھنا جس سے دوسروں کو تشویش و ایذاء ہو،ناپاک کپڑوں میں طواف کرنا،رمل اور اضطجاع کومتعلقہ موقع پر بلا عذر وضرورت ترک کرنا،طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ کرنا،دوطواف اس طرح اکھٹے کرنا کہ دوگانہ طواف بیچ میں نہ پڑھے(ترک واجب کی وجہ سے)،خطبہ اور جماعت کھڑی ہوجانے کے وقت طواف کرنا(جبکہ جماعت نکلنے کا اندیشہ ہو) اورطواف کے دوران کھانا کھانا ترک مولات (سنت مؤکدہ )کی وجہ سے، اسی طرح  بلاعذرشدیدبھوک اور غصہ کی حالت میں طواف کرنا( جیساکہ اس حالت میں نماز پڑھنا بھی)،طواف کرتے ہوئے( پورے طواف میں) نماز کی طرح ہاتھ باندھنا یا بلاعذرکولھے اور گردن پر ہاتھ رکھنا،طواف  کی نیت کے وقت دونوں ہاتھ بغیر تکبیر کہے اٹھانا(خلاف سنت  بلکہ بدعت ہونے کی وجہ سے) مکروہ تحریمی ہیں۔(ارشاد الساری:۱۱۲،غنیۃ الناسک:ص۱۲۶)

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۲ صفر ۱۴۴۰ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب