021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مملوکہ زمین کی پیداوار سے زکوۃ وعشرکا حکم
..زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

ایک غریب کسان ہے جو کہ کسی اور کی زمین میں کام کرتا ہے، نہ زمین اس کی ملکیت ہے اور نہ وہ صاحب ِنصاب ہے۔ تو اس زمین سے جو اناج ،سبزی وغیرہ نکلیں گی اس کا زکوۃ دینا اس کسان پر لازمی ہے ؟؟ تصریح: اس کسان نے زمین اجارہ کرکے لی ہے۔

o

عشری زمین کی پیداوار میں عشر واجب ہے ،نصاب ضروری نہیں ،پیداوار چاہے کم ہو یا زیادہ ۔اسی طرح زمین کا مالك ہونا یا مالک کا عاقل ، بالغ ہونا بھی ضروری نہیں ۔ ا ب چونکہ زمین اس نے اجارہ کرکے لی ہے اس لئے اگر نہری زمین ہے توپیداوار کا بیسواں حصہ ،اور اگر بارانی زمین ہے تو دسواں حصہ زکوۃ ادا کرے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 326): "(قوله يجب العشر) ثبت ذلك بالكتاب والسنة والإجماع والمعقول: أي يفترض لقوله تعالى {وآتوا حقه يوم حصاده} [الأنعام: 141].... (قوله: بلا شرط نصاب) وبقاء فيجب فيما دون النصاب بشرط أن يبلغ صاعا وقيل نصفه وفي الخضراوات التي لا تبقى" البناية شرح الهداية (3 / 420): قول النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: م: (ما أخرجته الأرض ففيه العشر، من غير فصل) …. فيدل على الوجوب من غير قيد. وإخراج لبعض الخارج عن الوجوب وإخلائه عن حقوق الفقراء، …والعشر يجب على الفقراء فيجب أن لا يتعلق بقدر معين لما أنه يجب تحقق الأرض فيجب في القليل والكثير. قوله -من غير فصل- ليس من الحديث، يعني من غير فرق بين القليل والكثير...... وذكر في " المبسوط ": إن كانت الأرض لمكاتب أو لصبي أو مجنون وجب العشر في الخارج منها عندنا. واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔