021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسم کےکفارےکی رقم والدین کودینا
..قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

محترم ومکرم مفتی صاحب دامت برکاتہم! دو مسئلے معلوم کرنے ہیں،(1) میرےاوپرقسم کاکفارہ واجب ہے،اگردس مسکینوں کوکھاناکھلاکر اداکرناہوتوآج کل اس کےکتنےپیسےبنتےہیں؟ (2)اورمیرےوالدین بھی اگر زکوۃ کےمستحق ہوں،توکیاانہیں کفارے کی رقم دےسکتا ہوں؟

o

(1)ایک مسکین کےکھانےکی کم ازکم مقدارنصف صاع گندم یااس کی قیمت ہے۔نصف صاع گندم کی مقدارمفتی رشیداحمدلدھیانوی رحمہ اللہ کی تحقیق کےمطابق سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت بنتی ہےاوراس میں احتیاط بھی ہے،لہذافی مسکین سوادوکلوگندم یااس کی جوقیمت آپ کےعلاقےمیں بنتی ہووہ اداکردی جائے،اس اعتبارسےدس مسکینوں کاکھاناساڑھےبائیس کلوگندم یااس کی قیمت کےبرابرہوگا۔ تاہم دیگرعلماءکرام کےنزدیک نصف صاع کی مقدارپونےدوکلوگندم کےبرابرہے،اگرآپ اس پرعمل کرناچاہیں تواس کی بھی گنجائش ہے۔اس اعتبارسےساڑھےسترہ کلوگندم یااس کی قیمت دس مسکینوں کاکھاناسمجھاجائےگا۔ (2) اپنےوالدوالدہ اوردادا دادی وغیرہ کواپنےکفارےاورزکاۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح اپنی اولادکوبھی کفارےاور زکاۃ کی رقم دیناجائزنہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قوله : ( كالفطرة قدرا ) : أي نصف صاع من بر أو صاع من تمر أو شعیر، ودقيقُ كل كأصله؛ وكذا السویق.(ردالمحتارعلی الدر:5/144) "وقال أیضا": قوله : ( ومصرفا ): فلا يجوز إطعام أصله وفرعه وأحد الزوجين ومملوكه والهاشمي ، ويجوز إطعام الذمي، لا الحربي ولو مستأمنا .بحر.(5/145)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔