021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فوجی کٹ بال بنوانےکا حکم
62789/57جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

سوال: فوجی کٹ بال بنوانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ "قزع" میں داخل نہیں ؟

o

بال کاٹنے کی تین جائز صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بال چھوڑ دیئے جائیں جسے "پٹے" کہتے ہیں۔دوسری یہ کہ پورے سر کے بال منڈوا لئے جائیں۔تیسری یہ کہ پورے سر کے بال ہر طرف سے برابر کاٹ لئے جائیں۔اس کے علاوہ بالوں میں مختلف ڈیزائن بنانا جائز نہیں،اور کم زیادہ کاٹنے کی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔

حوالہ جات

إيقاظ الأفهام في شرح عمدة الأحكام - (ج 4 / ص 43) يكره القزع [ وهو حلق بعض الرأس وترك بعضه ] . لحديث ابن عمر - رضي الله عنه - قال : ( نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن القزع ) . متفق عليه .الحكمة من النهي : قال النووي : " قيل : يشوه الخلق ، وقيل : لأنه زي أهل الشرك ، وقيل : لأنه زي اليهود ، وقد جاء هذا مصرحا به في رواية لأبي داود " شرح سنن أبي داود - عبدالمحسن العباد - (ج 1 / ص 2) " باب في الذؤابة. حدثنا أحمد بن حنبل حدثنا عثمان بن عثمان -قال أحمد : كان رجلاً صالحاً- قال: أخبرنا عمر بن نافع عن أبيه عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: (نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع) والقزع: أن يحلق رأس الصبي فيترك بعض شعره" مسند الإمام أحمد بأحكام الأرناؤوط - (ج 9 / ص 125) نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع والقزع أن يحلق رأس الصبي ويترك بعض شعره  
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔