021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آٹا قرض لینے کا حکم
62790/57خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

سوال: بعض اوقات گھریلو ضروریات کے لئے آٹا ادھار لے لیا جاتا ہے، اور بعد میں واپس کر دیتے ہیں، کیا یہ ربوا النسیئہ کی وجہ سود ہوگا؟

o

مذکورہ صورت چونکہ بیع کی نہیں ہوتی، بلکہ قرض کی ہوتی ہےاور قرض ہوتا ہی اس صورت میں ہے کہ اس کو تاخیر سے واپس کیا جائےگا۔ یہ معاملہ ابتداءً تبرع ہے،اس لئے اس میں تاخیر جائز ہےاور انتہاءً معاوضہ ہے، اس لئے واپسی میں برابری ضروری ہے۔ لہذا ایسا کرنا جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ واپسی بھی اسی برتن سے کی جائے جس سے ادھار لیا گیا ہے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 14 / ص 220) وفي «نوادر هشام» عن أبي يوسف أنه قال: (لا) خير في قرض الحنطة والدقيق بالوزن، وكذلك التمر وإن كان حيث يوزن، قال هشام رحمه اللّه: قلت لمحمد: التمر عندنا بالري وزناً فما تقول فيمن أقرضه بالوزن، قال: لا يصلح ذلك؛ لأن أصله كيل، وعن محمد أيضاً: أنه قال: لا يجوز الحنطة أن تقرض وزناً، فإن أخذه وأكله قبل أن يكتاله، فالقول قول المستقرض أنه كذا كذا قفيزاً. وفي «الأصل»: (136أ3) إذا استقرض الدقيق وزناً لا يرده وزناً، وعن أبي يوسف رواية أخرى: أنه يجوز بيع الدقيق واستقراضه وزناً إذا تعارف الناس ذلك أستحسن فيه العناية شرح الهداية - (ج 10 / ص 33) ( وموجب استقراض المثلي رد عينه معنى ) وبالنظر إلى كونه عارية يجب رد عينه حقيقة ، لكن لما كان قرضا والانتفاع به إنما يكون بإتلاف عينه فات رد عينه حقيقة فيجب رد عينه معنى وهو المثل ويجعل بمعنى العين حقيقة ؛ لأنه لو لم يجعل كذلك لزم مبادلة الشيء بجنسه نسيئة وهو لا يجوز الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 287) "(فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عددا (ولحم) وزنا..."
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔