021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخصوص خریداری پرانعامی پیکج
..خرید و فروخت کے احکاممختلف مالی دستاویزات ، بانڈز اور چیک وغیرہ کا بیان

سوال

سوال: بعض اوقات دوکاندار کسی خریدار کو یہ پیکج دیتاہے کہ اگر دس فٹبال خریدوگے تو ایک فٹبال فری دیا جائے گا۔ اس طرح کرنا جائز ہے؟کیا یہ سود ہے ؟

o

کبھی کبھارترغیبی طور پر ایسی اسکیم جاری کرنا جائز ہے ،کیونکہ یہ دوکاندار کی طرف سےمخصوص مقدار میں خریداری پر گاہک کے لئے گفٹ اور رعایت ہے۔اس لئے خریدار کے لئے مقررکردہ مخصوص مقدار کے خریدنے پر انعامی فٹبال وصول کرنا جائز ہے۔البتہ یہ ضروری ہے کہ اس انعام کی وجہ سے اس چیز کی اصل قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

حوالہ جات

بحوث فی قضايافقهية معاصرة (2 /239): وبما أن حقيقة الجائزة أنهاهبةبدون مقابل ، فانها ليست من عقود المعاوضة، وانمامن قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها أن تکون تبرعاً من المجيز بدون أن يلتزم المجاز بدفع عوض مالی مقابل الجائزة۔۔۔ الجوائز علی شراء المنتجات۔۔۔۔۔وإن حکم هذه الجوائز أنها تجوز بشروط: الشرط الاول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله، ولايزاد فی ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول علی الجوائز وهذا لأنه إن زاد البائع علی ثمن المثل فالمقدار الزائد إنمايدفع من قبل المشتری مقابل الجائزة المحتملة فصارت الجائزة بمقابل مالی فلم يبق تبرعا وإن هذا المقابل المالی إنماوقع المخاطرة فصارت العملية قمارا،أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذله، ولم يخاطر بشئ فالجائزة التی يحصل عليها جائزة بدون مقابل، فيدخل فی التبرعات المشروعة
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔