021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانوروں کو تعویز لٹکانے کا حکم
62466/57ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

سوال:جانوروں کے گلے میں تعویز ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟

o

جس طرح انسانوں کے لئے بغرضِ علاج،جائزتعویذ استعمال کرنا درست ہے اسی طرح جب تک کوئی محذورِشرعی نہ پایا جائے ،جانوروں کے حق میں بھی علاج کے طور پر جائز تعویذ استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ مقدس کلمات( اللہ جلّ جلالہٗ کے نام ،آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ مبارکہ ، ادعیہ مأثورہ وغیرہ) پر مشتمل تعویذ ڈالنے کی بجائےکسی مستند اور با عمل بزرگ سے صحیح حروف و اعداد پر مشتمل تعویذ لے کر ان کے گلے میں ڈال دیا جائے کیونکہ اعداد وحروف درحقیقت کلمات کی طرح مقدس نہیں ہوتے بلکہ ان کلمات کے لئے بطورِ علامت استعمال ہوتے ہیں ،اس لئے صحیح اعداد و حروف پر مشتمل تعویذ جانوروں کےگلے میں ڈالنا درست ہے۔

حوالہ جات

فتاوى الشبكة الإسلامية معدلة-56ألف فتوى - (ج 10 / ص 1394) قال الإمام القرطبي في تفسيره: والقول الأول - بجواز التعليق - أصح في الأثر والنظر إن شاء الله تعالى وفی أوجز المسالک 14 /410,414 ماجاء فی نزع المعاليق والجرس من العين (ماجاء فی نزع المعاليق)۔۔۔وهو جمع معلوق،وفی النسخ الهندية التعاليق،والمراد ما يعلق فی أعناق الصبيان والدواب۔۔۔ وقد ذهب قوم الی أنه لايجوز أن يعلق علی الصحيح من بنی آدم والبهائم شيئ من العلائق خوف نزول العين،وان جوزوا تعليق ذلک علی السقيم رجاء البّر،والصحيح من قول العلماء جواز ذلک فی الوجهين،وهو قول مالک والفقهاء۔۔۔الخ
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔