021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بلی کو مارنے کا حکم
62467/57جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سوال: ہمارے یہاں بلی لوگوں کو بہت پریشان کر رہی ہے، آئے دن کبھی مرغی اور کبھی چوزے کھا جاتی ہے۔ کیا ہم اس بلی کو مار سکتے ہیں؟؟

o

اگرکوئی مخصوص بلی لوگوں کی مرغیاں اور چوزے اٹھا کر کھاجاتی ہواور اسے قتل کئے بغیر کوئی اور صورت ممکن نہ رہے، تو اس مخصوص بلی کو ہلاک کرنے کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنے کی گنجائش ہے جس سے اس کی جان آسانی سے نکل جائے اوراسے زیادہ اذیت کا سامنا نہ ہو۔ اس لئے اگر اسے پکڑنا ممکن ہو تو پکڑ کر کسی تیز دھار چھری سے اس طرح سے ذبح کردیا جائے کہ آسانی سے اس کی جان نکل جائے، لیکن اگر پکڑنا ممکن نہ ہو تو پھر بندوق سے اس طرح گولی ماری جائے جس سے بلی فوری طور پر ہلاک ہوجائے ۔

حوالہ جات

شرح النووي على مسلم - (ج 14 / ص 238) "ان نملة قرصت نبيا من الأنبياء فامر بقرية النمل فأحرقت فأوحى الله إليه فى أن قرصتك نملة أهلكت أمة من الأمم تسبح وفى رواية فهلا نملة واحدة قال العلماء وهذا الحديث محمول على أن شرع ذلك النبى صلى الله عليه و سلم كان فيه جواز قتل النمل وجواز الإحراق بالنار ولم يعتب عليه فى أصل القتل والاحراق بل فى الزيادة على نملة واحدة قوله تعالى فهلانملة واحدة فهلا عاقبت نملة واحدة هي التى قرصتك لأنها الجانية وأما غيرها فليس لها جناية" فتح الباري - ابن حجر - (ج 6 / ص 358) "قوله فهلا نملة واحدة يجوز فيه النصب على تقدير عامل محذوف تقديره فهلا أحرقت نملة واحدة وهي التي آذتك بخلاف غيرها فلم يصدر منها جناية..." رد المحتار - (ج 29 / ص 328) يجوز ( فصد البهائم وكيها وكل علاج فيه منفعة لها وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة ) تضر ( ويذبحها ) أي الهرة ( ذبحا ) ولا يضر بها لأنه لا يفيد ، ولا يحرقها" الدر المختار للحصفكي - (ج 7 / ص 32) "وفي القنية يجوز ذبح الهرة والكلب لنفع ما"  
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔