021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلامک بینکاری سے متعلق چند اشکالات
..سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

سوال: محترم مفتی صاحب مجھے اسلامک بینکنگ کے حوالے سے کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اسلامک بینکنگ بہت عام ہو چکی ہے بہت سارے بینک اپنی اپنی خدمات پیش کررہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلامک بینکنگ حقیقت پر مبنی نہیں ۔ کیونکہ جو کچھ ظاہر کیا جاتا ہے ایسا عملی طور پر نہیں ہوتا ۔ اس حوالے سے وہ چند دلائل بھی دیتے ہیں ۔ 1۔ اسلامی بینک بھی سودی بینکوں کی طرح نان رسک ہیں ۔ 2۔KIBOR کا استعمال کرتے ہیں ۔ 3۔ نفع کی شرح تقریباً ایک ہی ہوتی ہے گھٹتی بڑھتی نہیں ۔ 4۔ ان کیلئے جو شریعہ سٹینڈز بنائے گئے ہیں ان کو follow نہیں کرتے ۔ 5۔ خاص طور پر وہ سودی بینک جن کی اسلامی ونڈوز ہیں ان کا حساب کتاب مکس ہوتا ہے تو کیسے اسلامک ہو سکتے ہیں ۔ 6۔بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ اسلامی ہیں تو سود کی آمیزش سے تو پھر بھی خالی نہیں ۔ براہ کرم اس حوالے سے صحیح نقطہء نظر کی نشاندہی فرمائیں۔

o

الحمدللہ غیر سودی بینکاری سودکے خلاف علماء کا ایک مستحسن اقدام ہے،جس کی حمایت تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسلامک بنکاری کا تمام کام مستند مفتیان کرام کی باقاعدہ نگرانی میں ہو رہا ہے۔اسلامک بینکنگ کے تحت کام کرنے والے تمام وہ بینک جو شریعہ سٹینڈرز کے تحت کام کر رہے ہیں اور مستند مفتیان کرام کی طرف سے ان کی نگرانی بھی ہوتی ہے سودی معاملات سے اجتناب کرتے ہوئے جائز کاروبار کرتے ہیں،مثلا: مرابحہ، اجارہ، شرکت،سلم، استصناع اورسلم وغیرہ۔ کچھ لوگ اگرچہ اس پر اعتراض بھی کرتے ہیں،جیسا کہ سوال میں بھی کچھ اعتراضات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ تاہم ہماری رائے کے مطابق مذکورہ بالا تمام اعتراضات لا علمی اور غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ ١۔یہ بات درست نہیں کہ اسلامی بینکاری کے ساتھ معاملات بھی کنونشنل بینکوں کی طرح نان رسک ہوتے ہیں ،بلکہ وہ معاملات جن میں کلائنٹ کا نقصان میں شریک ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، وہ معاملات نقصان میں شرکت کی بنیاد پر ہی طے پاتے ہیں۔البتہ نقصان سے حفاظت کے طریقے اختیار کرتے ہوئے نقصان کا نہ ہونا الگ بات ہے۔ ۲۔ KIBOR کااستعمال محض ایک پیمانے کے طور پر کیا جاتا ہے جس کا استعمال شرعاً اگرچہ بہتر نہیں لیکن نا جائز نہیں نہ اسکی وجہ سے نفع حرام ہو گا۔ ۳۔ اسلامک بینکوں کی طرف سے ملنے والا نفع ایک جیسا نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔نیز سٹینڈرڈائیز معاملات کی وجہ سےمتوقع نفع کا درست اندازہ بھی لگا جا سکتا ہے۔ ۴۔اسلامک بینکاری کے لیے اسٹیٹ بینک کی طرف سے باقاعدہ Regulations جاری ہوتی ہیں، جن کی پابندی کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کی اسٹیٹ بینک کی طرف سے باقاعدہ نگرانی بھی ہوتی ہے۔ ۵۔ کنونشل بینکوں کی غیر سودی ونڈوز کا سارا معاملاتی نظام اصل بینک سے الگ ہوتا ہے ۔دیگر غیر سودی بینکوں کی طرح ان کا کام بھی باقاعدہ مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کےمطابق ہوتا ہے۔ ٦۔یہ ایک وسوسہ ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں ۔

حوالہ جات

﴿أَحَلَّ الله البيع وَحَرَّمَ الربا﴾ )البقرة : 275 ( واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔