021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لائیٹنگ اور اس کے کرائے کا حکم
61565 جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

سوال:کچھ عرصہ پہلےمیرے دوست نے شادی بیاہ اور دیگرکی تقریبات پر لائٹنگ کرائے پر دینے کا کام شروع کیا۔اچھے تعلقات کی وجہ سے میں نے اپنے تمام جاننے والوں کو اس سے متعارف کرایا۔جس کی وجہ سے اس کا کاروبار بہت اچھا چل پڑا۔وہ مجھے اس وجہ سے درمیان میں کئی دفعہ پیسے دینے کی آفر کرتا رہا لیکن میں نے اس کام کو جائز نہ سمجھنے کی وجہ سے انکار کیا ۔اب اس نے مجھے ایک موبائل گفٹ کیا ہے۔براہ کرم یہ بتا ئیں کہ میرے لیےیہ موبائل استعمال کرنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو اس کا کیا کروں؟ اور یہ کاروبار شرعاً کیسا ہے؟اور لائیٹنگ کا حکم کیا ہے؟

o

لائیٹنگ کا استعمال عام طور پر دو طرح سے ہوتا ہے۔ایک تقریبات میں روشنی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےجس کا جائز ہونا بالکل واضح ہےبشرطیکہ وہ تقریب شرعا ممنوع نہ ہو۔ دوسرا محل تقریب کو سجانے کے لیے اگر اس میں تفاخر اور عجب مقصود نہ ہو تو شریعت نے اس سے منع نہیں کیا لیکن ان چیزوں میں زیادہ مشغول ہونا اور ان پر مال خرچ کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں۔ لہذا شرعاً مباح تقریبات میں لائیٹنگ کرائے پر دینا جائز ہے اور ایسا کاروبار کرنے والے شخص کا دیا ہوا تحفہ قبول کرنا بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (30/ 266) (قال وكل أحد منهي عن إفساد الطعام، ومن الإفساد الإسراف) وهذا لما روي «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن القيل والقال وعن كثرة السؤال وعن إضاعة المال»، وفي الإفساد إضاعة المال ثم الحاصل أنه يحرم على المرء فيما اكتسبه من الحلال الإفساد والسرف والخيلاء والتفاخر والتكاثر، أما الإفساد فحرام لقوله تعالى {وابتغ فيما آتاك الله الدار الآخرة} [القصص: 77] الآية، وأما السرف فحرام لقوله تعالى {ولا تسرفوا} [الأنعام: 141] الآية وقال جل وعلا {والذين إذا أنفقوا} [الفرقان: 67] الآية فذلك دليل على أن الإسراف والتقتير حرام وأن المندوب إليه ما بينهما، وفي الإسراف تبذير وقال الله تعالى {ولا تبذر تبذيرا} [الإسراء: 26] الكسب (ص: 118) قَالَ أَلا ترى الرجل قد يَبْنِي لنَفسِهِ دَارا وينقش سقفها بِمَاء الذَّهَب فالا يكون آثِما فِي ذَلِك يُرِيد بِهِ أَنه فِيمَا ينْفق على دَاره للتزيين يقْصد بِهِ مَنْفَعَة نَفسه خَاصَّة الكسب (ص: 121) فَصَارَ الْحَاصِل أَن الِاقْتِصَار على أدنى مَا يَكْفِيهِ عَزِيمَة وَمَا زَاد على ذَلِك من التنعم والنيل من اللَّذَّات رخصَة وَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن الله يحب أَن يُؤْتى بِرُخصِهِ كَمَا يحب أَن يُؤْتى بِعَزَائِمِهِ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔