021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کی پیکنگ (میں لوکل مال بیچنا)کا غلط استعمال
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ہماری ورکشاپ پر گاڑی کے آئل چینج ہو نے کے بعد خالی پیکنگ بچ جاتی ہے،عموماًکسی اچھی کمپنی کا لیبل ان پر لگا ہوتا ہے۔کچھ لوگ ان کو اس لیے خریدتے ہیں تاکہ ان میں لوکل ائل بھر کر مہنگے داموں بیچیں۔انکا یہ عمل کیسا ہے اور ان لوگوں کو پیکنگ بیچنا کیسا ہے۔

o

کسی کمپنی کی پیکنگ میں لوکل آئل بھر کر بیچنا جبکہ خریدار اس کو اصلی سمجھ رہا ہو دھوکہ ہے، جو کسی صورت میں جائز نہیں اوردھوکے سے حاصل کی گئی رقم بیچنے والے کے لیے حلال نہیں ہو گی،بلکہ خریدار کو واپس لوٹانا واجب ہے اگر کسی وجہ سے واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کیےبغیر صدقہ کرنا واجب ہے۔اگر دھوکہ سے لی گئی رقم پوری قیمت کا پانچ فیصد یا اس سے زیادہ ہو تو خریدار کو معلوم ہونے پر معاملہ ختم کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ البتہ اگرفریقین پر معاملہ کی حقیقت واضح ہو اورباہمی رضا مندی بھی پائی جائے تو معاملہ درست ہوگا، اور کمائی بھی جائز ہوگی۔ اگرکسی شخص کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اس پیکنگ کو غلط ہی استعمال کرے گا تو اس کو بیچنا گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے مکروہ تحریمی و ناجائز ہے، لہذا ایسے معاملے کوفسخ کرنا واجب ہے ۔ اگر کسی وجہ سے فسخ ممکن نہ رہے تو اصل قیمت کے علاوہ صرف اس عقد میں ہونے والا نفع صدقہ کرنا واجب ہے ۔البتہ اگر اس رقم سے کوئی چیز خریدکر بیچ دی تو اس دوسرےمعاملے میں ہونے والا نفع حلال ہو گا۔

حوالہ جات

"التغرير: توصيف المبيع للمشتري بغير صفته الحقيقية." "الغبن الفاحش: غبن على قدر نصف العشر في العروض والعشر في الحيوانات والخمس في العقار أو زيادة. " ( مجلة الأحكام العدلية : ص: 34) "( ويكره ) تحريما ( بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم ) لأنه إعانة على المعصية" (رد المحتار : 16/ 397) لأن الأصح تعينها في البيع الفاسد؛ فلو اشترى بها عبدا مثلا شراء صحيحا طاب له ما ربح؛ لأنها لاتتعين في هذا العقد الثاني لكونه عقدا صحيحا، (رد المحتار) (5/ 97) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔