021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلم مملک سے درآمد شدہ کفارکےمستعمل برتن استعمال کرنا
..جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

سوال:آج کل بچت بازاروں میں مختلف قسم کے سامان ایسے بھی ملتے ہیں جو غیر مسلم ممالک سے درآمد ہو کر آتے ہیں،جن میں استعمال شدہ برتن بھی ہوتے ہیں کیا یہ برتن خرید کر استعمال کرنا جائز ہے؟حالانکہ ان میں بہت سارے برتن ایسے ہو تے ہیں کہ وہ حرام کھانوں میں استعمال ہو چکے ہوتے ہیں مثلاً خنزیر کے گوشت اور شراب وغیرہ میں۔

o

حرام چیز میں استعمال ہونے سے برتن ہمیشہ کےلیے ناپاک نہیں ہو جاتا بلکہ دھو لینے سے دوبارہ پاک ہو جاتا ہے۔ وہ برتن جس کے بارے میں یقین ہو کہ اس کو حرام چیز میں استعمال کیا گیا ہے اسے استعمال کرنے سے پہلے دھو کر پاک کرنا ضروری ہے البتہ وہ برتن جس کے بارے میں یقین تو نہ ہولیکن شک ہو تو ایسے برتن کو دھونا ضروری تو نہیں لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ دھولیا جائے۔ لہذا غیر مسلم ممالک سےدرآمد شدہ برتن دھو کر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

(فتح القدير : 1/ 129) "قال الشيخ تقي الدين : ۔۔۔۔۔قال { قلت يا رسول الله إنا بأرض أهل كتاب أفنأكل في آنيتهم ؟ قال : إن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها ، وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها }۔۔۔۔۔۔۔۔۔والأمر بالغسل للندب لا للنجاسة ما لم تتحقق لما ثبت من أكله صلى الله عليه وسلم في بيت اليهودية التي سمته صلى الله عليه وسلم . " واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔