021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرائےپرلی ہوئی گاڑی کرائےپرچلانا
61742اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٕلہ کے بارے میں زید ایک گاڑی کسی دوست سے ۳۰۰۰۰ روپے ماہانہ کرائے پر لے گا اور پھر خود یا کوئی ڈرائیور رکھ کر اسے کریم کمپنی میں لگائے گا۔اس سے حاصل ہونے والی کمائی ساری زید کی ہو گی چاہے کم ہو یا زیادہ،زید پیچھے ۳۰۰۰۰ ہی دے گا ۔کیا اس کا ایسا کرنا جائز ہے۔

o

کرائےپر لی ہوئی چیز کو آگے زیادہ کرائے پر دینا شرعاً جائز نہیں۔البتہ اگر اس کے ساتھ کوئی چیز اپنی طرف سے شامل کر دی جائے تو کسی بھی قیمت پر کرائے پر دینا جائز ہے۔ لہذا زید اگر کرائے پر گاڑی لے کر صرف وہی گاڑی ہی کریم کمپنی کوماہانہ زیادہ کرائے پر دے تو جائز نہیں ہو گا۔البتہ اگر خود اس کو چلائے یا اپنی طرف سے کوئی ڈرائیور متعین کر کے (جس کی اجرت اس کے ذمہ ہو) کریم کمپنی میں لگائے تو جائز ہوگا،چاہے جتنا بھی کما لے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 29) ( للمستأجر أن يؤجر المؤجر ) أي ما استأجره بمثل الأجرة الأولى أو بأنقص، فلو بأكثر تصدق بالفضل ۔۔۔۔۔۔۔۔ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا، أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔