021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کریم (Careem)اور اوبر(Ober)سروس کی کمپنیوں میں گاڑی لگانا جائز ہے یانہیں؟
63309اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال:آج موجودہ دور میں کریم (Careem)اور اوبر(Ober) کی کمپنیوں میں گاڑی لگانا جائز ہے یانہیں؟ اگر جائز ہے تو کن شرائط کا ہونا ضروری ہے؟اور ناجائز ہونے کی کیا شرائط ہیں؟

o

کریم اور اوبر دو ایسی کمپنیاں ہیں جو گاڑی کےمالکان کو یہ پیش کش کرتی ہیں کہ آپ اپنی گاڑی کا ہماری کمپنی میں اندراج کروائیں،ہم آپکا اکاؤنٹ اپنےپاس کھولیں گے۔جب کسی کو کرائے کی گاڑی ضرورت ہو گی وہ ہم سے رابطہ کریں گےآپ ہماری طرف سے اس شخص کو جائے مقصود تک پہنچائیں گے ۔ اس کےبعدکمپنی گاڑی کے مالک سےیہ معاہدہ کرتی ہے کہ ہمارےواسطے سے آئے ہوئے شخص سے لی گئی اجرت کےخاص حصےکے بقدرمثلاً ۷۵فیصدہم آپ کو دیں گے۔اس کے علاوہ اسےیہ آفربھی کرتی ہے کہ اگر آپ اتنے وقت میں اتنی رائڈز مکمل کر لیں تو کمپنی اتنی اتنی رقم اپنی طرف سے دے گی۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی والے کو یہ آفر بھی ہوتی ہے کہ اگر آپ ہمارے ساتھ بارہ گھنٹے آن لائن رہیں اور دس رائڈز اٹھانے کے بعد بھی آپ مثلاًٍ ۳۲۰۰ روپے نہ کما سکے تو جتنے کم ہوئے اتنے کمپنی اپنی طرف سے ادا کرے گی اور اس سے زیادہ آپ جتنے بھی کما لیں وہ آپکے ہوں گے۔ اگر گاڑی والا اس پر راضی ہو جاتا ہے، تو اس اس جنرل ایگریمنٹ کی حیثیت کمپنی اور گاڑی والے کے مابین وعدہ کی ہے۔ اس میں مذکور تمام تفصیلات وعدہ کے درجہ میں ہیں۔ اس کے بعد جب بھی گاڑی والا جب بھی کمپنی کی طرف سے کسی سواری کو سروس فراہم کرتا ہے،تو اس میں بنیادی طور پر دو مستقل عقد ہو رہے ہوتے ہیں: ایک عقد کمپنی اور سواری کے درمیان ہوتا ہے،جس میں کمپنی اجیر(lessor) کی طرح ہوتی ہے اور سواری مستاَجر(lessee)، پھر کمپنی مستاَجر کو مطلوبہ خدمت فراہم کرنے کے لیے گاڑی والے سے عقد کرتی ہے، یہ دوسرا عقد ہے جو کمپنی اور گاڑی والے کے درمیان ہو رہا ہے، اس میں گاڑی والا کمپنی کے لیے اجیرکے طور پر کام کرتا ہے، چنانچہ گاڑی جب جب رائڈ قبول کرتی ہے ہر بار مستقل عقد ہو رہا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گاڑی والے کی بہترین کاکردگی پر اسے کمپنی کی طرف سے بونس بھی ملتا ہے اور کم کمانے کی صورت میں بقدر کمی اپنی طرف سے احساناً رقم بھی دیتی ہے۔تینوں معاملات شرعاً جائز ہیں ۔ لہذا عقد اجارہ کے تحت ان کمپنیوں کے ساتھ گاڑی لگانا جائز ہے ۔ کمپنی کا یہ معاملہ بظاہرسمسرہ)دلالی،(dealershipسے زیادہ ملتا جلتا ہے، لیکن سمسرہ پر اس کی تکییف کرنا اس وجہ سے درست نہیں کہ سمسرہ میں سمسار(dealer) اصل عاقد نہیں ہوتا بلکہ دوعاقدیں کے درمیان معاملہ طے کرواتا ہے،جبکہ مذکورہ معاملے میں کمپنی خود بحیثیت عاقد کام کرتی ہے جیساکہاوپر اجارہ کے پہلے عقد میں ذکر ہوا۔ کمپنی کے اس معاملے پر یہ اشکال ہوتاہے کہ گاڑی کو دیا جانے والا کرایہ" بعض ما یخرج من عملہ” کے قبیل سے ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ کمپنی سواری سے لیے ہوئے کرائے میں سے دینے پر عقد نہیں کرتی بلکہ اس کرائے کے ۷۵ فیصد کے بقدر اپنی طرف سےدینے پر معملہ کرتی ہے،اس بات کی دلیل یہ ہے کہ کمپنی کی اصل ترتیب یہ ہے کہ سواری بذریعہ اکاؤنٹ کرائے کی ادائیگی کمپنی کو ہی کرتی ہے، پھر گاڑی والے کی اجرت کمپنی کی طرف سے اس کےاکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔اگر کسی سواری کے پاس سواری کے پاس بذریعہ اکاؤنٹ ادائیگی کی سہولت موجود نہیں ہوتی تو وہ گاڑی والے کو نقد ادائیگی کر دیتی ہے ، جس پر گاڑی والا کمپنی کی طرف سے بطور وکیل قبضہ کرتا ہے پھر کمپنی اس رقم کی وصولی اس کے اکاؤنٹ سے کٹوتی کر کے لیتی ہے یا اگر کمپنی نے گاڑی والے کو کچھ دینا ہوتا ہے تو مقاصہ کر لیتے ہیں ۔ ایک اور اشکال یہ ہوتا ہے کہ اگر گاڑی والا کمپنی کے ساتھ سارا دن بھی آن لائن رہے اور اسے کوئی سواری نہ ملے تو کمپنی کی طرف سے اسے کچھ بھی نہیں ملتا حالانکہ وہ کمپنی کے لیے گاڑی چلارہا ہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی گاڑی کئی گھنٹے آن لائن رہے اور اسے سواری نہ ملے ۔ بالفرض اگر ایسا ہو بھی جائے توواقعی اس پر کچھ نہیں دیتی ، لیکن اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں کیونکہ کمپنی اور گاڑی کے درمیان اصل معاہدہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے کمپنی کی طرف سے سواری مل جائے ۔رائڈ قبول کرنے سے پہلے کمپنی اور گاڑی کے مابین کوئی لازم عقد نہیں ہوتا لہذا گاڑی والا اس دوران کسی عوض کا مستحق نہیں ۔بس اتنا کہا جاسکتا ہے کہ گاڑی سواری کی تلاش میں اور اس انتظار میں کہ کمپنی کوئی سواری بھیج دے آن لائن رہتی ہے ۔ اسے کوئی بھی سواری مل جائے چاہے وہ کمپنی کے واسطے سے آئے یا از خود اس سے رابطہ کرے ، اٹھانے میں آزاد ہے ۔ البتہ چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ۱۔ معاہدہ صاف اور واضح ہو ۔ ۲۔ گاڑی والے کو کم از کم اتنا معلوم ہو کہ کمپنی سواری سے فی کلو میٹر اور فی منٹ ( انتظار کی صورت میں ) کیا چاجز لیتی ہے ۔ ۳۔ اگر گاڑی اپنی نہیں ہے بلکہ کرائے پر گاڑی لے کر صرف وہی گاڑی ہی ان کمپنیوں کو ماہانہ زیادہ کرائے پر دے تو جائز نہیں ہوگا اس طور پر کے درمیا نی فرق کو کمائی کا ذریعہ بنیا جائے ۔البتہ اگر کرائے پر لی گاڑی ہوئی گاڑی کو خود ان کمپنیوں کے لیے چلائے یا اپنی طرف سے کوئی ڈرائیور متعین کر کے (جس کی اجرت اس کے ذمہ ہو ) ان کمپنیوں میں لگائے تو جائز ہوگا ، جتنا بھی کمالے ۔ لہذا اسلامی بینک سے لیز ( Direct Ijarah) پر گاڑی لے کر صرف وہی گاڑی ان کمپنیوں کو زیادہ کرائے پر دینا جائز نہیں ہو گا ۔ البتہ شرکہ متناقصہ ( Diminishing Musharaka)یا مرابحہ ( Murabaha) پر گاڑی لے کر کمپنی کو کسی بھی قیمت پر کرائے پر دینا جائز ہوگا ۔ کمپنی کا رائڈ کینسل کرنے پر جرمانہ کرنا : عقد اجارہ طے ہو جانے کے بعد لازم ہو جاتا ہے ، فریقین میں سے کوئی بغیر شرعی عذر کے یکطرفہ طور پر اسے ختم نہیں کر سکتا ۔ اگر عمل شروع ہونے سے پہلے اجارہ پر لینے والے کے ذمے کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور اگر خدمت حاصل کرنے کے بعد ختم ہوا تو ان حاصل شدہ خدمات کے بقدر اجرت اداکرنا لازم مے ۔ جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا کہ کمپنی کے اس معاملے میں اجارہ کے دو عقد ہورہے ہوتے ہیں۔ مدار اس بات پر ہے کہ عقد اجارہ شروع کب سے ہوتا ہے ۔دونوں عقود کے شروع ہونے کے اوقات میں فرق ہے ۔ چنانچہ گاڑی رائڈ موصول ہونے کے بعد نہی حرکت میںآتی ہے کمپنی اور گاڑی کے مالک کے درمیان اجارہ شروع ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ گاڑی کا مالک باقاعدہ طور پر کمپنی کو خدمات فراہم کرنے میں مشغول ہو گیا ہے مثلاً گاہک تک پہنچنا ، اس سے رابطہ کرنا وغیرہ ۔ لہذا رائڈ کینسل ہونے کی صورت میں گاڑی کا مالک کمپنی سے ان خدمات کی طے شدہ اجرت وصول کرنے کا حقدار ہے۔ چونکہ سواری اور کمپنی کے مابین بھی اجارہ کا عقد ہوتا ہے جسے دونوں میں سے کوئی بھی بغیر شرعی عذر کے یکطرفہ طور پر فسخ نہیں کر سکتا ۔ رائڈ کینسل کرنا حقیقت میں عقد اجارہ کو فسخ کرنا ہے ۔ اگر گاڑی سواری کے پاس پہنچنے سے پہلے پہلے سواری نے رائڈ کینسل کی ، تو چونکہ ان دونوں کے درمیان عقد ابھی تک عملاً شروع ہی نہیں ہوا ، لہذا کمپنی عقداجارہ کے تحت کچھ بھی لینے کی حقدار نہیں ۔ لیکن چونکہ وہ اس کے وعدہ پر چلی ہے ، لہذا کینسل کرنے ہر بقدرِ اخراجات رقم اصول کرسکتی ہے (ان اخراجات میں رقم شامل کی جائے گی جو اس صورت میں کمپنی گاڑی کے مالک کو ادا کرے گی) ،اگرچہ ابھی گاڑی سواری کے پاس نہ پہنچی ہو ۔ اور اگر گاڑی سواری کو لے کر کچھ چلی تھی پھر کینسل ہوئی تو جتنی چلی تھی اس کا کرایہ لینے کی حقدار ہے ۔ رہی بات ہر کینسل کرنے والے کو اخراجات سے زیادہ جرمانہ کرنا ، تو یہ شرعاً جائز نہیں ، چاہے عزر کی وجہ سے کینسل کرے یا بغیر عذر کے ۔ اسی طرح گاڑی کے مالک کو رائڈ کینسل کرنے پر جرمانہ کرنا بھی جائز نہیں ۔ البتہ نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے یوں کیا جا سکتا ہے کہ رائڈ کینسل کرنے والے کو اسی وقت تو کچھ جرمانہ کرے البتہ اگر کینسل کرنے والا فریق سوار ہو تو آئندہ جب وہ رائڈ لے ، تو اس کے لیے فی کلو میڑ ریٹ بڑھا دے اور اگر کینسل کرنے والا فریق گاڑی والا ہو تو آئندہ کی رائڈ میں اس کی اجرت کی شرح کم کر دے ۔ ایسی صورت تحال میں کمپنی کی ذمہ داری ہوگی کہ پہلے سے اعلانیہ طور پر سب کو آگاہ کر دے ۔ نوٹ : یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کمپنی کے عقد کی نوعیت یہی رہے ، عقد کی نوعیت تبدیل ہونے پر یہ حکم جاری نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 18) (وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قوله وإن أطلق) بأن لم يقيده بيده وقال خط هذا الثوب لي أو اصبغه بدرهم مثلا؛ لأنه بالإطلاق رضي بوجود عمل غيره قهستاني، ومنه ما سيذكره المصنف. (قوله أفاد بالاستئجار) أي بقوله يستأجر غيره. واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔